انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 355

انوار العلوم جلد ۵ ۳۵۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ان پرانی باتوں کو اگر جانے بھی دیا جائے تو بھی ان کی وہی تقریریں جو انہوں نے اسی سال کے سماج کے جلسہ میں کی ہیں اس امر پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہیں کہ وہ اب سماج کے اصول لالہ کے قائل نہیں ۔ بندے ماترم اخبار کے اسی نمبر میں جس میں پروفیسر رام دیو صاحب کا لیکچر چھپا ہے۔ لاجپت رائے صاحب کے دو لیکچروں کا بھی ذکر ہے ۔ ایک وہ لیکچر جو انھوں نے کا لج پارٹی کے جلسہ میں دیا ہے اور ایک وہ مختصر لیکچر جو انھوں نے وچھو والی کے جلسہ میں دیا ہے۔ وچھو والی کے جلسہ میں جو کچھ جو کچھ انھوں نے۔ نے بیان کیا اس کا ایک فقرہ یہ ہے کہ " میں آریہ سماج کے اندر کام کروں یا نہ کروں لیکن اگر یہ سماج کے احسان کو کبھی نہ بھولوں گا۔ یہ احسان کوئی مذہبی احسان نہیں بلکہ اس احسان سے مراد وہ سیاسی خیالات ہیں جو آریہ سماج مذہب کے پردہ کے نیچے پھیلاتی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں شمالی ہندوستان کی بیداری کا باعث آریہ سماج کا کام ہے اگر چہ یہ بیداری کافی نہیں اور اس سے سو راجیہ حاصل نہیں ہو سکتا تاہم آریہ سماج نے زمین تیار کر دی ہے ۔ آپ کو پالٹیکس میں جو کچھ روشنی نظر آتی ہے یہ سب کچھ آریہ سماج کے پر چار کا نتیجہ ہے ۔ ان کے ان فقرات سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ سماج کے احسان سے ان کی مراد سیاسی احسان ہے ورنہ اس کے مذہبی اصول سے دستبردار ہو چکے ہیں اور دیدوں کو خیر باد کہ چکے ہیں۔ کا لج پارٹی میں ان کا جو لیکچر ہوا ہے اس میں بھی انہوں نے یہ بیان کیا کہ لوڈ ڈکنس ہندوستانیوں پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ قدرت کی طاقتوں سے بھاگتے ہیں اور خوفزدہ ہوکر ان کی عبادت کرنے لگتے ہیں اور انہیں قابو میں لانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یہ اعتراض خواہ کبھی گذشتہ زمانہ میں صحیح نہ ہو لیکن میری رائے میں پندرہ سو سال سے یہی ہماری تباہی کا باعث ہوا ہے۔ ان کے ان فقرات سے بھی کیسی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندو مذہب کی موجودہ حالت کو تو یقیناً قابل تسلی نہیں سمجھتے اور پچھلے زمانہ کے متعلق ان کو شبہ ہے کہ آیا وہ بھی زمانہ حال کی طرح کا تھا یا اس سے اچھا تھا ۔ اسی طرح وہ بیان کرتے ہیں کہ بعض اصحاب کا یہ خیال غلط ہے کہ ہمارے پراچین رشی منی لاثانی اور بینظیر تھے۔ یورپ اور امریکہ میں اب بھی ایسے رشی ہیں جو اپنی پاگیزگی بے غرضی اور روحانیت کے کے لحاظ سے ان قدیم رشیوں سے کسی طرح کم نہیں کوئی کہ سکتا ہے کہ کہتے ڈارون ہر تی سپنسرما پنسر مارکونی کی زندگی پاک نہیں ۔ یا یہ پراچین رشیوں سے کسی طرح کم تھے ۔ گیا لالہ لاجپت رائے صاحب کے ان خیالات کی بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ آریہ سماج اب ماضی کا مذہب ہو گیا ہے اور آئندہ اس سے کسی اصلاح کی اُمید رکھنا فضول ہے کیونکہ اس کے بڑے بڑے ٹ