انوارالعلوم (جلد 5) — Page 344
انوار العلوم جلد ۵ اسلام اور حریت و مساوات کیا جو شخص مستحق ہو اس کی اولاد بوجہ اولاد ہونے کے ہی مستحق ہو جاتی ہے۔اگر مال کمانے والے کے پاس بوجہ استحقاق روپیہ رہنے دیا جاتا ہے تو پھر یہ شرط مقرر کی جانی چاہئے تھی کہ اگر جمع شدہ مال کی نسبت یہ یقین کر لیا جائے کہ متوفی کی اولاد اسے اپنے نفس پر خرچ نہیں کرے گی۔بلکہ اسے مساوی طور پر حاجتمندوں میں تقسیم کر دے گی تب اس مال کو اس کے پاس رہنے دیا جائے ورنہ ان سے لے کر کسی اور امین کو دے دیا جائے کہ مساوی طور پر حاجتمندوں میں تقسیم کر دے۔خواجہ صاحب کو نصیحت چونکہ خواجہ صاحب کے مضمون کی تمام باتیں جو قابل توجہ تھیں میرے مضمون میں آگئی ہیں اس لئے میں اسی حد تک اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور خواجہ صاحب کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ اپنا بھی اور دوسروں کا وقت بھی ضائع کرنے کی کوشش نہ کریں۔اگر فی الواقع ان کو احقاق حق کا شوق ہے تو نفس مضمون کی طرف توجہ کریں اور ایک دفعہ سائل کے سوالات اور میرے جوابات کو پھر غور سے پڑھیں۔اور پھر اگر کوئی امر دریافت طلب ان کو نظر آوے تو مجھ سے دریافت کریں۔یونی ادھر سے ادھر کلام کی باگیں پھیر تے جانا خلاف دانش ہے اور سوائے خلط مبحث کے اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اور اگر وہ حق سے محروم نہیں رہنا چاہتے تو مضمون لکھتے وقت اس امر کی طرف زیادہ توجہ دیا کریں کہ جس کے خلاف وہ مضمون لکھ رہے ہوں اس کی طرف ایسی باتیں نہ منسوب کیا کریں جو اس نے نہیں کہیں۔کیونکہ گو اس سے ان لوگوں کو دھوکا لگ جائے جنہوں نے فریق ثانی کا مضمون نہیں پڑھا مگر اس سے مضمون نویس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس پر مسخ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور حق کے قبول کرنے سے وہ ہمیشہ کے لئے محروم رہ جاتا ہے۔وَاجِرُ دَعُو مِنَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔خاکسار مرزا محمود احمد و الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۲۱ء )