انوارالعلوم (جلد 5) — Page 329
انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۹ ساوات ہو اس کی بات قابل تسلیم نہیں کیونکہ حدیث کبھی رد ہو سکتی ہے اور اس کا ماننا از بابا من دُونِ اللہ کی اطاعت کے ماتحت تبھی آسکتا ہے جب ساتھ یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ بی کریم صلی الہ علیکم نعوذ باللہ بعض باتیں خدا تعالیٰ کے خلاف منشاء اور اس کے احکام کی مخالفت میں بھی کہ لیا کرتے تھے۔لیکن جب خواجہ صاحب اس امر کا دعویٰ نہیں کرتے تو پھر اس جگہ اس بات کے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اور اس کے بیان کرنے سے حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ علم کس طرح درج اعتبار سے ساقط ہو گئی ؟ اور اگر خواجہ صاحب کا یہ مطلب ہے کہ نبی گو ایسی بات بھی کسے جواللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف نہ ہو تب بھی اس کا حکم ماننے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں تو پھر اس سے زیادہ انبیاء کی ہتک کوئی نہیں ہو سکتی کہ دنیا دی حکام کے احکام مانے جائیں۔ماں باپ کے احکام پر عمل کیا جائے۔مگر نبی کی بات تسلیم نہ کی جائے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا السَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللهِ النساء : ۶۵) یعنی ہم نے کوئی رسول دنیا میں مبعوث نہیں فرمایا مگر اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اس کی اطاعت کی جائے۔اس آیت میں "باذن اللہ" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں نہ کہ فی اوامر اللہ ہیں اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکام میں اس کی اطاعت کریں کیونکہ اول تو الفاظ اس کے متحمل نہیں ہوتے۔دوم اگر احکام الہیہ میں ہی اس کی اطاعت تھی تو پھر اسکی اطاعت کا ذکر کیوں کیا گیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( الاحزاب (۲۲)۔تم لوگوں کے لئے رسول اللہ : میں ایک پاک نمونہ ہے۔اور پھر فرماتا ہے :۔قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ من بینی اگرتم اله تعال سے محبت رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو تم سے اللہ تعالیٰ محبت کرنے لگے گا۔ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ علاوہ کلام الہی میں مذکور شدہ احکام کے رسول بھی جو حکم دے اس کی اطاعت خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے اور شرک وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ اطاعت اپنی ذات میں شرک نہیں۔اطاعت کسی وجود کی تبھی شرک ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کی اطاعت کے مقابلہ پر پڑھاو ہے۔ورنہ اطاعت تمام انسان کسی نہ کسی مخلوق کی کرتے ہیں۔اور چونکہ رسولوں کی اطاعت باذن الشہ عد ال عمران : ۳۲