انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 322

انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۲ اسلام اور حریت و مساوات قرار دیا ہے۔اور اس کی تمام زندگی ہی اسلام میں فتنہ اور نفاق ڈالنے میں خرچ ہوئی ہے پس ایسے شہریر النفس انسان کو تابعی قرار دے کر مجھے پر یہ الزام لگانا کہ میں تابعیوں کو شہر پر کہتا ہوں سخت ظلم ہے۔خواجہ صاحب کو شاید معلوم نہیں کہ یہی وہ شخص ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی محبت کا مسئلہ ایجاد کیا تھا اور لوگوں میں یہ بات پھیلاتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوبارہ اسی جسد عصری کے ساتھ تشریف لائیں گے۔حافظ قرآن ہونے کا الزام کب لگایا گیا دوسرا اتمام خواجہ صاحب نے مجھ پر لگایا ہے کہ میں نے ان پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ حافظ قرآن نہیں ہیں ہر ایک شخص جس نے میرا مضمون پڑھا ہے جانتا ہے کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔میں نے اپنے مضمون میں ہر گز ان کے حافظ قرآن نہ ہونے پر ان کو الزام نہیں دیا۔بلکہ میں نے صرف ان کو یہ نصیحت کی تھی کہ وہ قرآن کریم کی آیات کو کلید میں دیکھ کر بلا قرآن کریم میں سے نکالے کے اور ان کے مفہوم پر غور کئے کے یونسی اپنے مضمون میں درج نہ کر دیا کریں۔کیونکہ جیسا کہ ان کے دونوں مضامین سے ظاہر ہوتا ہے ان کو یہ عادت ہے کہ بلا مطلب کا لحاظ کئے یونسی آیات درج کرتے چلے جاتے ہیں اور اس طرح آیات قرآنیہ کا بے محل استعمال کلام الہی کی شان کے خلاف ہے۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید بہت سی آیات کا درج کر دینا علمیت کا ثبوت ہے۔حالانکہ بے محل آیات قرآنیہ کا استعمال نہ صرف جہالت کا ثبوت ہے بلکہ کلام اللی کی بہنک ہے۔مگر ان کا یہ شوق اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ انہوں نے لوگوں کی توجہ کو اس امر کی طرف پھیرنے کے لئے تمام ان آیات قرآنیہ کا ایک سلسلہ وار نمبر دیا ہے جو انہوں نے اپنے مضمون میں درج کی ہیں۔حالانکہ ان میں سے بعض تو بے موقع استعمال کی گئی ہیں اور بعض ایسے مضامین کی تردید یا تائید میں بیان کی گئی ہیں کہ جن کو یا تو میں نے بیان نہیں کیا یا میں نے ان کا انکار نہیں کیا ہیں ایک کی تردید اور دوسرے کی تائید دونوں ہی عبت عمل ہیں۔قرآن میں نسخ کے قائل ہونے کا غلط الزام تغیر اتمام خواجہ صاحب نے مجھ پر یہ لگایا ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ میں قرآن کریم میں نسخ کا قائل ہوں اور آیت زکواۃ سے آیت انفاق کو منسوخ قرار دیتا ہوں حالانکہ یہ بات ہمارے سلسلہ کے اشد ترین دشمنوں سے بھی پوشیدہ نہیں کہ ہماری جماعت بلا استثناء شروع زمانہ سے لے کر قرآن کریم کی آیات تو الگ رہیں اس کے ایک لفظ یا اس کی ایک حرکت کے نسخ کی بھی