انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 14

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام توحید کیلئے غیرت کے دروازے میں پہنچ گئے اور اُسے کھولدیا جس سے مسلمانوں کا شکر قلعہ کے اندر گھس آیا اور مسلمہ ہارا گیا اور تھوڑی دیر میں مسلمانوں کو کامل فتح حاصل ہو گئی ۔ اب وہ کیا چیز تھی جس کی وجہ سے با وجود دشمن کے زیادہ اور قوی ہونے کے مسلمان کامیاب ہوئے وہ غیرت تھی جس کے ماتحت اتنا بڑا کام ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی حکومت قائم ہو گئی ۔ غیرت کی مثال اس زمانہ میں بھی نہیں ایک نظیر ملتی ہے۔ یونان اور ترکوں کی ایک دفعہ اور جنگ ہوئی۔ یونانیوں کا گمان تھا کہ ہمیں بیرونی ممالک کی مدد سے ترکوں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوگی۔ یونانیوں کے پاس ایک قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر واقع تھا اور ایسے موقع پر تھا کہ وہاں سے اگر گولہ باری ہوتی تو تمام یونان کو جانے والے راستوں پر گولے پڑتے تھے ۔ یورپ کی وہ حکومتیں جنہوں نے یونان کو انگیخت کیا تھا ، ان کا خیال تھا کہ چھ مہینہ تک یہ قلعہ فتح نہیں ہو سکتا اور اتنے عرصہ میں روس وغیرہ حکومتوں کی طرف سے یونانیوں کے لئے ملک پہنچ جائیگی اور پھر ترکوں کا مار لینا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا ۔ ان لوگوں میں بھی مذہب کی ظاہری حالت کے لئے ایک غیرت تھی۔ ترکوں کا ایک مشہور جرنیل (جس کا نام غالباً ابراہیم پاشا تھا ، ترکوں کی فوج کا افسر تھا۔ اس نے حکم دیا کہ یونان کی طرف بڑھو جب شکر بڑھا تو یونانیوں کی طرف سے اس شدت سے گولہ باری ہوئی کہ قدم اُٹھانا مشکل ہو گیا اور پہاڑی کی بندی کی وجہ سے اس پر سیدھا پڑھنا مشکل تھا اور سپاہیوں نے درخواست کی کہ ہمیں بوٹ اُتارنے کی اجازت دی جائے مگر افسر نے اجازت نہ دی اور خود ان کے لئے نمونہ بن کر آگے بڑھا۔ اس گولیوں کے مینہ کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا ۔ تھوڑی ہی دور چل کر گولی لگی اور جرنیل زخمی ہو کر گرا۔ اور اس کے گرتے ہی سپاہی اس کو اُٹھانے کے لئے آگے بڑھے ۔ مگر اس نے انہیں کہا کہ تم کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ اور یہیں پڑا رہنے دو۔ اگر تم نے مجھے عزت اگر تم نے مجھے عزت کے ساتھ دفن کرتا ہے تو اس کا ایک ہی مقام ہے اور وہ اس قلعہ کی چھت ہے۔ پیس یا تو مجھے اس جگہ دفن کرو ورنہ یہیں پڑا رہنے دو کہ چیلیں اور گئے میرا گوشت نوچ کر کھا جاویں۔ چونکہ اس افسر کا تعلق فوج سے بہت اعلیٰ درجہ کا تھا ۔ اس کی یہ بات ایک چنگاری بن گئی۔ جس نے سپاہ کی غیرت کو بارود کی طرح آگ لگا دی۔ اور اب ان کے سامنے سوائے اس قلعہ کی فتح کے اور کوئی مقصد نہ رہا۔ اور وہ لوگ ایک منٹ میں کچھ کے کچھ بن گئے اور چیخیں مارتے ہوئے اسی آگ کی بارش میں قلعہ کی طرف بڑھے اور اس طرح قلعہ کے اوپر چڑھ گئے ۔ لکھا ہے کہ ان کے ہاتھوں کے پپوٹے اور ناخن تمام پتھروں سے رگڑ کر اڑ گئے۔ مگر اس