انوارالعلوم (جلد 5) — Page 318
انوار العلوم جلد ۳۱۸ اسلام اور حریت و مساوات الفاظ کی وہ تشریح کریں گے تو کئی قسم کی حریت اور کئی قسم کی مساوات جسے وہ اس وقت جائز بلکہ ضروری سمجھتے ہیں خود ان کو بڑی لگنے لگے گی اور خود ان ہی کے الفاظ سے ان کا سوال حل ہو جائے گا۔خواجہ عباداللہ صاحب کا مضمون اس مضمون کے شائع ہونے پر اصل سائل صاب تو نہ بولے بیکن خواجہ محمد عباداللہ صاحب اختر نے ایک مضمون وکیل میں شائع کرایا جس کا مطلب یہ تھا کہ گویا میں نے حریت و مساوات کو نا جائز قرار دیا ہے اور بعض آیات سے بعض قسم کی حریت اور مساوات ثابت کرنی شروع کی۔جیسا کہ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے یہ فعل ان کا جلد بازی پر مبنی تھا۔وہ اس بات کا جواب دے رہے تھے جو میں نے نہ لکھی تھی۔اور بعض ایسی باتیں ثابت کر رہے تھے جن کا ئیں نے کبھی اور کہیں انکار نہ کیا تھا۔خواجہ صاحب کی درشت کلامی میں نے ان کو اپنے مضمون مندرجہ افضل اور دسمبر ۱۹۲۰ میں ان کی اس غلطی پر متنبہ کیا۔اور ان کے مضمون کی بعض غلطیوں پر بھی آگاہ کیا اور جیسا کہ ان لوگوں کا جوغلطی پر ہوتے ہیں اور اپنی اصلاح کرنے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں خاصہ ہے انہوں نے اس مضمون کے جواب میں نہایت گندہ دہنی سے کام لیا ہے اور مختلف پیرایوں میں گالیاں دے کر اپنا غصہ نکالنا چاہا ہے۔اور سب سے عجیب بات یہ ہے که با وجود دوبارہ یاد دلائے جانے کے پھر بھی اسی رنگ میں مضمون لکھتے چلے گئے ہیں کہ گویا میں حریت و مساوات کا ہر رنگ اور ہر شکل میں مخالف ہوں۔حالانکہ میں نے ابھی اس مضمون کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار بھی نہیں کیا۔اور بار بار یہی لکھا ہے کہ ان الفاظ کی تشریح ہونے پر میں بتا سکتا ہوں کہ آیا ان امور کا خیال رکھنا اسلام کے مطابق ہے یا مخالف۔خواجہ صاحب کے مضمون کی حقیقت خواجہ صاحب نے اپنے تازہ مضمون میں جہاں پہلے مضمون کی طرح بے سرد پا اور غیر متعلق باتوں کی بھر مار کی ہے وہاں کئی ایسی باتیں میری طرف منسوب کی ہیں جو میں نے کبھی نہیں لکھیں اور غلط باتیں میری طرف منسوب کر کے آیات قرآنی اس کی سند میں لکھنی شروع کر دی ہیں۔اور وہ بھی ایسے تنک آمیز طریق پر کہ کوئی سچا مسلمان اس طریق کو برداشت نہیں کر سکتا۔کیونکہ بالکل بے محل آیتوں کو جمع کر دیا گیا ہے اور اس قدر تعلی سے کام لیا ہے کہ ہم کے سوا وہ اپنا ذکر ہی کرنا پسند نہیں کرتے۔گو بعض دوستوں نے ان کی اس تعلی اور غلط مبحث کی عادت اور سخت کلامی کو دیکھ کر مجھے مشورہ دیا ہے کہ جبکہ وہ اصل مضمون کی طرف نہیں آتے اور خواہ مخواہ من گھڑت باتوں کا جواب دینے میں مشغول ہو جاتے