انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 317

النوار العلوم جلد ۵ اسلام اور حریت و مساوات تحریر فرموده حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی ۱۶ مارچ ۱۹۲۱ء) اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ اسلام اور حریت و مساوات لسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَتُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مداللہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ میں سامير کچھ حصہ مضمون کا لکھا تھا کہ مجھے پہلے آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے باہر جانا پڑا۔ پھر لاہور اور کوٹلہ کا سفر پیش آگیا اور بعض اور اہم کام بھی پیش آگئے اس لئے اس مضمون کے مکمل کرنے میں دیر ہو گئی ۔ اب سفر سے آکر اس جواب کو شائع کرتا ہوں ۔ خاکسار مرزا محمود احمد (۱۶ مارچ ۱۹۲۱ء) احباب کو یاد ہو گا کہ الفضل میں میرا ایک خط چھپا تھا جس میں ایک صاحب کے چند سوالات یاد ہوگا کہ میں میرا خط کا جواب تھا ۔ ان سوالات کا مدعا یہ تھا کہ حریت و مساوات اسلام کے بنیادی اصول ہیں ۔ اور خلفاء اور اماموں کا فرض ہے کہ وہ چھوٹی قوموں کو ظالموں کی دستبرد سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں اور کیا یورپ کی بعض حکومتیں چھوٹی حکومتوں کو نگل نہیں چکیں ؟ اور کیا ان کا یہ منشا نہیں کہ اسلامی حکومتوں کی جگہ مسیحی حکومتیں قائم کر دیں ؟ اور کیا انگریزوں نے ہندوستان میں مساوات قائم رکھی ہے؟ اور کیا انگریز ہندوستانیوں سے بُرا سلوک نہیں کرتے ؟ پھر آپ نے اس کے رفع کرنے کے لئے کیا کوشش کی ہے ؟ میں نے ان سوالات کے جواب ان صاحب کو مختصر طور پر لکھوا دیئے اور یہ بھی لکھا کہ حریت و مساوات اسلام کے احکام کے مطابق کیا حیثیت رکھتے ہیں اسکا جواب اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب پہلے یہ معلوم ہو جائے کہ سائل کے نزدیک ان دونوں الفاظ کی کیا تشریح ہے ؟ ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں یہ اسلامی احکام میں داخل ہوں اور بعض میں داخل نہ ہوں ۔ میری اس تحریر سے یہ غرض تھی کہ جب ان