انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 314

انوار العلوم جلد ۵ ار الم اسلام اور حریت و مساوات جہاد کا اور میں موعود پر حملہ یا جو الی بی مضمون جہاد کا بے تعلق ذکر اور حضرت مسیح موعود پر حملہ خواجہ صاحب نے اپنے کا میں بلا کسی ظاہری تعلق کے جہاد بلا تو کا بھی ذکر کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعود پر حملہ کیا ہے کہ آپ جہاد کے مخالف تھے۔ لیکن علاوہ اس کے کہ یہ بات بالکل بے تعلق ہے غلط بھی ہے ۔ حضرت مسیح موعود نے کبھی نہیں تحریر فرمایا کہ باوجود جہاد کا موقع ہونے کے جہاد جائز نہیں۔ بلکہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ یہ موقع جہاد کا نہیں۔ کیونکہ جہاد کی شرائط اس وقت نہیں پائی جاتیں ۔ مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ اس مضمون کا جہاد کے ساتھ تعلق کیا ہے؟ خواجہ صاحب کے تمام مضمون کے پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پریشان خیالات کا ایک طوفان اٹھا ہے جو انہوں نے کاغذ کی نذر کر دیا ہے ۔ آیتیں ہیں تو ان کا اصل مضمون سے کچھ تعلق نہیں۔ باتیں ہیں تو وہ مقصد سے دور ۔ ان کو تو خیر کسی وجہ سے جوش آگیا ہو گا ۔ مجھے ایڈیٹر صاحب وکیل پر تعجب ہے که با وجود ایک فہمیدہ اور تجربہ کار آدمی ہونے کے بلا نظر ثانی کرنے کے انہوں نے یہ مضمون شائع کس طرح کر دیا ؟ جس حصہ مضمون کو دیکھو وہی سوال از آسمان اور جواب از ریسمان کی مثال ہے۔ خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی میں مضمون ختم کرنے سے پہلے یہ کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں مناسب ادب سے بھی کام م نہیں لیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ذکر بلا وجہ تو وہ لائے ہی تھے۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی انہوں نے ایک جگہ ایسا لفظ اس استعمال کیا ہے جو سخت ہتک آمیز ہے۔ لکھتے ہیں کہ مطلق العنان حکومت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے مطلق العنان کے معنے ہوتے ہیں جس کی باگ چھوڑ دی جائے۔ اس قسم کا ذلت پر دلالت کرنے والا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا ایک مومن کی شان سے بعید ہے بے شک استعارہ اور مجاز کلام میں ہوتا ہے۔ لیکن وہ لفظ جو انسانوں کے لئے بھی دراصل ہنگ کا موجب ہوتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا سخت تعجب انگیز ہے اگر خواجہ صاحب کی نسبت کوئی شخص مطلق العنان کا لفظ استعمال کرے تو وہ ضرور اس کو برا منائیں گے ۔ پھر نہ معلوم خدا تعالیٰ کے لئے یہ لفظ انہوں نے کیوں استعمال کیا ۔ مجازاً ہی کوئی لفظ استعمال کرنا تھا تو ایسا لفظ استعمال کرتے جو ظلم اور خود سری پر دلالت نہ کرتا ۔ خواجہ صاحب کو نصیحت آخرمیں میں پھر خواجہ صاحب کو نصیحت کرتا ہوں کہ کسی کا مضمون بغور پڑھنے سے پہلے اس کا جواب نہ دینے بیٹھ جایا کریں اور قرآن پر زیادہ تدبیر کی عادت ڈالیں ۔ قرآن کریم کا مطالعہ نہ کرنا بھی عجیب ہے اور اس کا