انوارالعلوم (جلد 5) — Page 303
۳۰۳ اسلام اور حریت و مساوات انتظام میں آخری آواز ہو۔اور بوجہ اس کے کہ مرد کے ذمہ مال کا خرچ کرنا ہے اور یہ ایک تسلیم شدہ اصل ہے کہ مال کا خرچ کرنا جس کے ذمہ ہو اس کی آواز کو زیادہ وزن دیا جاتا ہے۔کیونکہ اس شخص کے لئے نقصان کے احتمال زیادہ ہوتے ہیں۔پھر مر جسمانی طور پر بھی گھر کے کام کاج میں کچھ نہ کچھ حصہ لیتا ہے۔پس چونکہ مرد پر ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے۔اس کے حقوق بھی زیادہ رکھے گئے ہیں۔اسی طرح سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :- وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُونِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً (البقرة : ۲۲۹) یعنی عورتوں کو بھی مردوں پر ویسے ہی ضروری حقوق ہیں جیسے کہ مردوں کو اور مردوں کو ان پر ایک فضیلت ہے۔اس میں اسی اصل کو بیان کیا گیا ہے جوئیں او پرلکھ چکا ہوں کہ ایک پہلو سے مساوات قائم کی گئی ہے اور دوسرے پہلو سے مرد کو حاکم بھی قرار دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت کے متعلق یہ اختیار بھی دیا ہے کہ اگر وہ نشوز کرے اور کسی طرح اس کی اصلاح نہ ہو۔تو اس کو مارو۔بے شک یہ کہا جا سکتا ہے کہ نشوز کی حالت میں ہی ایسا اختیار دیا گیا ہے اس کے بغیر تو نہیں دیا گیا۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر مرد نشوز کرے تو کیا قرآن وحدیث نے عورت کو بھی حق دیا ہے کہ وہ بھی مرد کو مارے۔پھر مرد کی جسمانی قوتوں کی زیادتی اور اس کے صاحب نفوذ ہونے کے سبب ہی سے مرد کو ایک وہ ے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت دی ہے۔نکاح کے معامہ میں بھی مرد کو اجازت دی ہے کہ خود پسند کر کے نکاح کرے لیکن عورت کے لئے شرط رکھی ہے کہ اس کی رضامندی کے ساتھ اس کے والد یاکسی اور قریبی رشتہ دار کی بھی رضامندی ضرور لی جائے اور اسی کی معرفت نکاح ہو۔عورت کے لئے نفلی روزہ تک رکھنے کے لئے خاوند سے اجازت لینے کا حکم دیا۔لیکن مرد کے لئے گویہ ہدایت کی کہ وہ اس قدر روزہ نہ رکھے کہ عورت کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہو جائے۔لیکن روزہ رکھنے کے لئے عورت کی اجازت شرط نہیں رکھی۔غرض اس قسم کے بہت سے احکام مرد و عورت میں ہر رنگ میں مساوات نہیں ہیں جن میں عورت کو مرد کی رائے کے ہیں جن تاریخ کیا گیا ہے۔مگر یہ امور وہی ہیں جو انتظامی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ احکام جو افراد سے تعلق رکھتے ہیں ان میں دونوں کو برابر رکھا ہے۔دونوں کو یکساں احکام و نوا ہی ہیں۔دونوں کو یکساں