انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 301

۳۰۱ اسلام اور حریت و مساوات ہوگی اور الزامی جواب کی طرح قوت اور شدت بھی ہوگی۔سائل کو تیسری قسم کے جواب دیئے گئے تھے اس تفصیل کے بعد میں خواجہ صاحب کو توجہ دلاتا ہوں کہ میرے جوابات گو الزامی تھے مگر اسی تیری قسم کے تھے مثلا جلیانوالہ کے باغ کے متعلق جو اعتراض ہوا ہے اس کا جو جواب میں نے دیا ہے اور جس کی طرف خواجہ صاحب نے اشارہ بھی کیا ہے وہ اسی قسم کا ہے۔کیونکہ اس میں میں نے سائل کے ہم خیال لوگوں کے ایک مستحسن فعل کی طرف اشارہ کر کے بتایا ہے کہ جس طرح انہوں نے فساد کو دُور کرنے کے لئے کٹار پور اور بہار کے وحشی اور انسانیت سے عاری قاتلوں کو معاف کر دیا ہے اسی طرح اگر بادشاہ معظم کے اعلان کے جواب میں ہم لوگوں نے جلیانوالے واقع کو بھلا دیا ہے تو کون سی قباحت آگئی۔یہاں دونوں فعل مستخن ہیں اور ایک ہی قسم کے ہیں۔سائل ایک کام کرتا ہے اور دوسرا اسے برا معلوم ہوتا ہے۔اس کو یہ امر سمجھانے کے لئے کہ دوسرا کام بھی مستحن ہے۔اس کے اپنے فعل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دلائل جن کے باعث اس نے پہلا کام کیا ہے اسے یاد آجائیں گے۔اور اس کا اعتراض دوسرے کام پر سے خود بخود اُٹھ جائے گا۔اور اس جواب سے ہر ایک شخص جو اس کا ہم خیال ہو گا وہ بھی تسلی پالے گا اور بجائے اس کے کہ ہم اس کو اپنے فعل کے دلائل دیں خود اس کا ذہن اس کے سامنے حقیقی دلائل پیش کر دے گا۔پس اس الزامی جواب میں اور حقیقی جواب میں یہی فرق ہے کہ اس جواب کے ذریعہ سے خود معترض کے منہ سے اپنے فعل کے مستحسن ہونے کا اقرار کرانے کی کوشش کی گئی ہے اور بجائے دلائل کو کاغذ پر لاکر اس کے سامنے پیش کرنے کے خود اسی کے دماغ میں ایسی حرکت پیدا کر دی گئی ہے کہ خود ہی دلائل اس کے سامنے آجائیں۔خواجہ صاحب نے جوابوں کی نسبت الزامی ہونے کا الزام اسلامی اخوت کا مطلب قائم کر کے سب سے پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام نے اخوت قائم کی ہے۔اس لئے جو مساوات اخوت میں ہوتی ہے وہی بنی نوع انسان میں قائم ہونی چاہئے۔اگر خواجہ صاحب کا یہ منشاء ہے کہ اسلام کی رو سے تمام بنی نوع انسان اپنی یدائش میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔یا یہ کہ ان کو ایک دوسرے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے اور ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے تو یہ سچی بات ہے۔اس کا کسی کو انکار نہیں۔لیکن اگر خواجہ صاحب کا اس سے زیادہ کچھ اور مطلب ہے تو وہ اس آیت سے نہیں نکلتا۔کیونکہ باوجود اس تعلیم کے اسلام