انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 289

انوار العلوم جلد ۔ ۲۸۹ اسلام اور حمیت و مساوات اسلام اور حریت و مساوات رقم فرموده حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی) اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تحمدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ هوا لا خُدا کے فضل اور رحم کے ساتھ تامر کچھ دن ہوئے کہ ایک گریجویٹ صاحب نے مری سے میرے نام کچھ سوالات لکھ کر بھیجے تھے ۔ جن کا جواب میں نے مولوی محمد اسمعیل صاحب مولوی فاضل و منشی فاضل قادیان کو جو ان دنوں صیغہ ڈاک کے انچارج ہیں لکھوایا تھا۔ یہ جواب گیارہ نومبر کے الفضل میں شائع کرا دیا گیا تھا۔ کیونکہ خط بھیجنے والے صاحب جس وقت جواب شائع کیا گیا ہے مری میں نہ تھے اور ان کا اس وقت کا پتہ معلوم نہ تھا۔ اور یہ بھی غرض تھی کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا لیں ۔ اس مضمون کے شائع ہونے پر امرتسر ۔ کے روزانہ اخبار وکیل میں خواجہ عباد اللہ صاحب اختر نے ایک سلسلہ مضامین شائع کرایا ہے جس میں بعض ان باتوں کو رد کیا گیا ہے ۔ جو ان کے خیال میں میں نے لکھی تھیں ۔ چونکہ حریت د مساوات کا سوال ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور لوگوں کی طبائع اس کی طرف مائل ہیں۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ خواجہ محمد عباد اللہ صاحب اختر بی ۔ اسے کے مضمون کے متعلق کچھ تحریر کروں ۔ تاکہ وہ ان لوگوں کے لئے جو حق طلبی کی عادت رکھتے ہیں رہنمائی کا کام دے اور میرے نقطہ نگاہ سے بھی لوگ آگاہ ہو جائیں ۔ اصل مضمون پر غور کئے بغیر جواب دیا گیا کے نایت اسوس سے کنا ہے مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خواجہ صاحب موصوف نے میرے خطہ پر غور کئے بغیر اس کا جواب دینا شروع کر دیا ہے ۔ اگر وہ اسے غور سے پڑھتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ اس میں حریت و مساوات کو اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں کہا گیا بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ الفاظ مہم ہیں۔ ان کی مختلف تشریحات ہو سکتی ہیں۔ جن میں سے بعض تشریحات کے موجب ان کا مفہوم اسلامی احکام میں شامل ہوگا