انوارالعلوم (جلد 5) — Page 283
انوار العلوم جلد ۵ ۲۸۳ اسلام اور حریت و مساوات ایسا نہ ہو کہ اس کے کمائے ہوئے مال پر بلا اس کی اجازت یا بلا اس سے خریدو فروخت کے قبضہ کرلے۔ اسلام میں حریت و مساوات سوال ہے کیا اسلام حریت مساوات کا علم بردار ہونے کا مدعی ہے یا نہیں ؟ اس سوال کا جواب چوتھے سوال کے نیچے آجاتا ہے۔ نبی کریم کے خلفاء کا مشن سوال : کیا نی کریم صل اللہ علیہ سلم کے نظام رضوان الل سیم کا مشن نہیں کہ وہ دنیا میں حریت و مساوات کے قائم کرنے کے لئے ہر طرح کی ممکن جد و جہد کریں ؟ جواب ۔ اگر حریت و مساوات کی کوئی ایسی تعریف ہے جو اسلام کے احکام کے نیچے آجاتی ہے اور اگر کی ہے جو کے احکام نیچے اور جو کی اور اسلامی حکم کے مخالف نہیں پڑتی تو پھر اس کی تلقین کرنا خلفاء اسلام کا فرض ہے۔ مگر یہ جی ان کا فرض ہے کہ جو بڑے کام ہوں ان کی طرف زیادہ توجہ کریں اور جو چھوٹے ہوں ان کی طرف کم ۔ سوال ہے ؟ کیا امام وقت کا یہ فرض نہیں کہ دنیا کی چھوٹی چھوٹی قوموں امام وقت کا فرض کو کو ظالموں کی دستبرد سے بچانے کے لئے آئینی طور پر جد وجہد کرے اور انہیں آزادی اور شہری حقوق دلانے میں کوشاں ہو ؟ جواب - امام وقت کا یہ فرض ہے کہ دنیا کی چھوٹی اور بڑی ، زبر دست اور کمزور تمام قوموں کو نہ کہ صرف چھوٹی قوم کو ہی ظالموں کی دستبرد سے بچانے کے لئے بہترین ذرائع کو استعمال میں لادے اور بہترین ذریعہ یہی ہے کہ انہیں سچے مذہب کی طرف بلائے ۔ اس کے بعد نہ ظالم ظالم رہ سکتا ہے نہ مظلوم مظلوم رہ سکتا ہے ۔ یوروپین حکومتیں اور چھوٹی قومیں سوال ہی کیا آج یورپ کی دو ایک ظالم سوال - کیا و جابر اور حکومتیں استبدادانہ طور پر چھوٹی چھوٹی آزاد قوموں کی آزادی نہیں چھین رہی ہیں ؟ کیا وہ ملک گیری کی ہوس میں ان کو بالکل نگل نہیں چکی ہیں ؟ جواب : بے شک یورپ کی بعض طاقتوں نے دوسرے ممالک پر قبضہ کیا ہوا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے آباء مسلمان کہلانے والے ہندوستان میں کس طرح آئے تھے ؟ اگر ان کا ہندوستان پر قبضہ کر لینا جائز تھا تو آج انگریزوں کا اس پر قبضہ کیوں نا جائز ہو گیا ؟ کیا ہند و خود انہیں بلانے گئے تھے ؟ پس کسی غیر ملک پر مجرد قبضہ کرلینا برا نہیں کہلا سکتا ۔ اسے مبرا قرار دینے کی کچھ شرائط لگانی پڑیں گی۔ جب تک وہ شرائط مجھے معلوم نہ ہوں میں پورا جواب نہیں دے سکتا۔