انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 274

انوار العلوم جلد ۵ ۲۷۴ ترک موالات اور احکام اسلام اور دیکھو گے۔ جب تم نے مشیح کو رسول خدا صلی اللہ علہ وسلم پر فضیلت دی تو خدا تعالیٰ کیوں مسیحیوں کو تم پر فضیلت نہ دے تم نے اس کی آواز کو نہ سنا اور آخر دیکھ لیا کہ خدا کی گرفت کیسی سخت ہوتی ہے تم نے خدا کے محبوب کو حضرت مسیح کا احسان مند بنا کر اس کی گردن اس کے سامنے کے جھکائی تھی خدا نے تمہاری گردنوں کو ہر جگہ مسیحیوں کے آگے جھکا دیا ہے ۔ پس یہ جو کچھ ہو رہا ہے تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہنگ کا ثمرہ ہے اب تم دوسری اعمال صلی علیہ ہے اسہ غلطی کرنے لگے ہو۔ حضرت شیخ تو خیر ایک نبی تھے اب جس شخص کو تم نے اپنا مذہبی راہنما بنا یا ہے وہ تو ایک مومن بھی نہیں ۔ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہتک کا نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دیکھو گے اور اگر باز نہ آئے تو اس جرم میں مسٹر گاندھی کی قوم کی غلامی اس سے زیادہ تم کو کرنی پڑے گی جتنی کہ حضرت مسیح کی اُمت کی غلامی تم کہتے ہو کہ ہمیں کرنی پڑی ہے۔ لیں اب بھی سنبھل جاؤ اور سمجھ لو کہ سول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی امت کا نجات دہندہ آپ ہی کے غلاموں میں سے ہو سکتا ہے جس کی گردن آپؐ کے سامنے جھکی رہے نہ یہ کہ آپ کو اس کے آگے گردن جھکانی پڑے۔ اس سوال کا جواب کہ برسوں موالات بلکہ تمہارے دل میں یہ خیال نہ گزرے پرستش تک بھی کر کے ہم نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا کہ ہم نے سوالات کر کے دکھائی اور برسوں برطانوی حکومت کی د ہلیز پر جبین نیاز رگڑا کر معلوم کر لیا کہ اس دروازہ سے ہمارا سوال پورا ہونے والا نہیں اور اس درگاہ سے ہماری مراد بر آنے والی نہیں۔ ہم نے ان کی غلامی کی ، ہم نے ان کی خوشامد کی ، ہم نے ان کی منت اری مرد پر والی والا نہیں اور اس کی ، ہم نے ان کی سماجت کی، ہم نے اگر سچ پوچھو تو ان کی پرستش کی مگر نتیجہ یہی نکلا کہ انہوں نے ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے بھائیوں کے گلے کٹوانے اور پھر ہمیں بھی جواب دے دیا اور اسی گڑھے میں ہم کو دھکیل دیا جو نہیں سے کھدوایا تھا۔ میں مانتا ہوں کہ یہ بات درست ہے تم نے اسی طرح کیا جس طرح تم بیان کرتے ہو کہ تم نے کیا اور انہوں نے بھی ویسا ہی بدلہ دیا جیسا کہ تم بیان کرتے ہو نگر جانتے ہو کہ " الْأَعْمَالُ بالنيات " کیا یہ سب کچھ کو شش تم نے اسلام کی عظمت اور اس کی ترقی کے لئے کی تھی ؟ تم نے ان کی خوشامدیں کیں مگر اپنی جیبوں کو پر کرنے کے لئے کیں ، خطابوں کے لئے ہیں، نوکریوں کے لئے کیں، جھوٹی عزتوں کے لئے ہیں ۔ تم ان سے ملے اور ان سے محبت کے اظہار تم نے کئے مگر کیا اس لئے کہ اس طرح تم ان کے دلوں کو اسلام کے لئے فتح کرو ؟ تم اس لئے ملے تا ان سے سرٹیفکیٹ حاصل کرو ، خوشنودی کے پروانے لو ، تم نے محبت کے اظہار کئے مگر اس لئے کئے کہ ان کی نگاہ مہر بخاری باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ