انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 272

انوار العلوم جلد ۵ ۲۷۲ ترک موالات اور احکام اسلام اس وقت اس مجرب نسخہ موالات کو استعمال کرو جو ہلاکو خان کے ہاتھ سے عباسی سلطنت کے مٹنے پر استعمال کیا گیا نہ کہ اسکے برعکس ترک موالات کا نسخہ اے عزیزو ! ہوشیار آدمی کسی سبق کو بھلاتا نہیں اور داناکسی عبرت کی بات کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔اس فتنہ کے وقت میں یہ تو سوچو کہ آج سے پونے سات سو سال پہلے اسلامی حکومت کو موجودہ صدمہ سے بہت زیادہ صدمہ پنچا تھا۔اب تو کچھ نہ کچھ ڈھانچہ موجود بھی ہے اس وقت تو ہولی بھی باقی نہ رہا تھا۔اس وقت کیا ہتھیار تھا جو کام آیا اور کیا گر تھا جس سے یہ سوال حل ہوا تھا ؟ ایک دفعہ کا تجر به شدہ نسخہ اسی قسم کی بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے پر اس بات کا مستحق ہے کہ سب سے پہلے اسی کا تجربہ کیا جائے۔غور تو کرو کہ جب ترکوں نے خلافت عباسہ کے محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی جب ان کے ٹڈی دل شکروں کا مقابلہ کرنے والا مسلمانوں میں کوئی باقی نہ رہا تھا۔اور جب اسلام کے مقدس مقامات ایک لاوارث کی طرح دشمنوں کے رحم پر تھے اس وقت کیا علاج تھا ؟ جو ہمارے آباء نے سوچا تھا اور کیا وہ اس علاج میں کامیاب ہوئے تھے یا نا کام ؟ اگر تم کو یاد نہیں کہ انہوں نے کیا تدبیر اختیار کی تھی اور اگر تم اس سبق کو فراموش کر چکے ہو تو سنو ! اس وقت انہوں نے موالات کے ہتھیار سے نہ کہ ترک موالات کے ہتھیار سے ان پر حملہ کیا تھا اور آخر کفر کو فنا کر کے اس کے جسم اور اسی کے پوست اور اسی کے خون سے اسلام کے لئے ایک نیا ہم تیار کر دیا تھا جس میں اسلام کی روح نے دنیا کو پھر اپنی جادو بیانی کا والا و شیدا بنانا شروع کر دیا تھا۔اس وقت کے علماء نے جو اس وقت کے علماء سے کہیں علم و فضل میں بڑھ کر تھے اور جن کے عمل کا نتیجہ ان کی رائے کے صائب ہونے پر تصدیق کی مہرلگا چکا ہے یہ راہ اختیار کی تھی کہ وہ ترکوں کے درباروں اور ان کی مجالس میں گھس گئے تھے اور انہوں نے مسلمانوں کے جسموں پر فتح پانے والوں کے دلوں پر فتح پانے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔آخر اس موالات کا یہ اثر ہوا کہ اس بادشاہ کا پوتا جس نے بغداد کی اسلامی حکومت کو تباہ کیا تھا اور اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کے خون سے اس سرزمین کو رنگ دیا تھا۔اسلام کی غلامی میں داخل ہوا اور خدائے واحد لاشریک کے عبادت گزاروں میں شامل ہو کر ایک نئی اسلامی حکومت کا بانی ہوا جس کے آثار اب اس موجودہ جنگ میں آکر بیٹے ہیں بلکہ ا بھی کچھ نہ کچھ موجود ہی ہیں۔وجہ کیا ہے کہ اب وہی نسخہ نہیں ہوتا جاتا بلکہ اس کے بالکل برعکس علاج کیا جاتا ہے اگر اس وقت کے مسلمانوں نے موالات کو اختیار کر کے اسلام کی حفاظت کی تھی تو آج ترک موالات کی کیوں تعلیم دی جاتی ہے کیا کوئی کامیاب