انوارالعلوم (جلد 5) — Page 271
انوار العلوم جلد ۵ ۲۷۱ ترک موالات اور احکام اسلام انکار پر کمر بستہ تھے۔نماز کو ترک کر رہے تھے ، روزوں کو ایک جرمانہ خیال کرتے تھے ، حج کو فضول خرچی کا موجب خیال کرتے تھے ، اس وقت ان کی محبت نے کیوں ہوش نہ مارا ؟ کیوں ان کو سمجھانے اور سیدھا راستہ دکھانے کا خیال پیدا نہ ہوا ؟ کیا اسی لئے نہیں کہ اس وقت ان کے مصرف کے نہ تھے اور اب ان کے ارادوں کو ان سے تقویت پہنچ سکتی ہے۔میں جانتا ہوں کہ ترک موالات کے بانیوں کو میری یہ تحریر بری لگے گی اور ان کے فریب خوردہ ساتھی بھی اس پر غصہ کا اظہار کریں گے مگر ان کی ہمدردی اور ان کی خیر خواہی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں سچی پنچھی بات ان کو سُنا دوں حتی ایک سخت کڑوی چیز ہے اور بہت دفعہ انسان خود اپنے آپ کو حق سنانے سے بھی ڈر جاتا ہے مگر ہم نے اپنی زندگیاں اسی لئے وقف کی ہوئی ہیں اور خدا کے بندوں کی ہدایت کا بار اپنے سروں پر اُٹھایا ہے اور کسی کی مخالفت یا عداوت کی نہیں پرواہ نہیں۔طبیب کبھی بیمار کی سختی کو دیکھ کر علاج کو ترک نہیں کرتا۔پس ہم بھی اپنے کام سے باز نہیں رہ سکتے اور اپنے بھائیوں کی اصلاح سے مایوس نہیں ہیں۔اپنی حالت پر نگاہ ڈالو اسے عزیزو ! میں یہ نہیں کہتا کہ تم اس غلطی کو دور کرنے کے لئے جو اتحادیوں سے ہوئی ہے جدوجہد چھوڑ دو میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اپنی حالت پر نگاہ ڈالو اور دیکھو کہ تمہارے نفس نے تم کو دھوکہ دیا ہے جسے تم اسلام کی محبت سمجھ رہے ہو وہ فقط ایک مقابلہ کی روح ہے جو یورپ کی دیکھا دیکھی تمہارے اندر جوش مار رہی ہے۔اگر اسلام کی محبت ہوتی تو اس وقت کیوں جوش پیدا نہ ہوتا جب خود اسلام پر حملہ ہو رہا تھا یا اب ہی کیوں اس امر کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی کہ اسلام سے مسلمانوں کو جو دوری ہے اسے دور کیا جائے اور خدا تعالیٰ پر ایمان اور اس سے محبت پیدا کی جائے یا اسلامی اخلاق اور اسلامی آداب پیدا کئے جائیں۔ہاں میں تمہیں فقط یہ کہتا ہوں کہ ہر ایک چیز کی طرف اس کے مناسب توجہ دو۔اگر دنیا کی بادشاہت تم کو مل جائے مگر اسلام نہ ہو تو اس حکومت کا کیا فائدہ ؟ اس جدوجہد سے زیادہ اس کے لئے جدو جہد کرو جو اصل مقصود ہے اور اس کام کے لئے بھی جو کوشش کرو وہ اسلام کے اصول کے مطابق ہونہ کہ اس کے مخالف۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تک ہندوستان میں ہر ایک امر کو مذہبی رنگ نہ دیدیا جائے لوگوں کو جوش نہیں آتا۔لیکن کیا کسی اچھی بات کے حاصل کرنے کے لئے ناجائز وسائل کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔یہ یورپ کا مقولہ ہے کہ اچھے مقصد کے حصول کے لئے ہر قسم کے ذرائع کا استعمال جائز ہے اسلام کی تعلیم نہیں ہے۔