انوارالعلوم (جلد 5) — Page 267
انوار العلوم جلد ۵ ۲۶۷ ترک موالات اور احکام اسلام حدیث کو یہ حدیث احترام حکومت کے متعلق ہیں کیا تعلیم دیتی ہے ؟ کیا ہدایت کو دیکھو کی وضاح حکومت کا احترام سکھاتی ہے۔ خاوند کو بھی بیوی پر ایک قسم کی حکومت ہوتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگ ان لوگوں پر ناراض تھے چاہتے تو بجائے ان کو کہلا بھیجنے کے کہ تم اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو جاؤ بیویوں کو کہلا بھیجتے کہ تم اپنے خاوندوں سے علیحدہ ہو جاؤ۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ خاوند کو کہلا بھیجا کہ وہ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو جائیں ۔ پھر جب ہلال بن امیہ کی بیوی آپ سے پوچھنے گئیں کہ کیا میں خدمت بھی نہ کروں ؟ تو پھر بھی یہ نہیں فرمایا کہ خدمت کر مگر اس کے قریب نہ جا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ خدمت کر مگر وہ تیرے قریب نہ آوے ۔ باوجود اس عورت کے مخاطب ہونے کے حکم کا مخاطب خاوند ہی کو قرار دیا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت پر مرد کے اختیار کا اس قدر لحاظ کیا ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو حکومتوں کے خلاف رعایا کو اکساتے ہیں اور ماں باپ کے خلاف بچوں کو جوش دلاتے ہیں اور اساس تمدن کو توڑتے اور انتظام برباد کرتے ہیں۔ قسم کم ی تیم ترک موالات حکومری کے اختیار یہ ترک موالات حکومت کے اختیار میں ہے به هم رعایا کے اختیار میں نہیں ہے اور بلا ان وجوہ میں ہے نہ رعیت کے اختیار میں کے اختیار میں رعایا کے اختیار کے جن کو شریعت نے بیان کیا ہے ترک موالات لا رنے کو رسول کریم صل للہ علیہ سل نے منع فرمایا ہے یا کہ فرماتے ہیں کا با عضوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ أَخَوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَن يَهْجَرَ أَخَاهُ فَوقَ ثَلاث یعنی ایک دوسرے ۔ یعنی ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے سے مخالفت اور عداوت نہ کرو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے ہندو بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لئے تعلقات قطع کرے ؟ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ افراد کو ان مواقع کے سوا جن میں شریعت نے ترک موالات کا حکم دیا ہے ۔ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کا اختیار نہیں۔ پس یہ تیسری قسم ترک موالات کی صرف حکومت کے ہاتھ میں ہے وہ حکومت خواہ سیاسی ہو خواہ مذہبی اور یہ قسم حکومت کے خلاف نہیں استعمال کی جا سکتی ۔ على بخارى كتاب المغازى حديث كعب من مالك * عله مسند احمد بن خلیل جلد ۳ صفحه ۱۹۹ ، ۲۲۵