انوارالعلوم (جلد 5) — Page 255
انوار العلوم جلد ۵ ۲۵۵ ترک موالات اور احکام اسلام عراق کے عرب میں شامل ہونے کی یہ دلیل دی جاتی ہے لفظ جزیرہ کے مفہوم پر بات اور امارات که عرب جزیرہ کہلاتا ہے اور جب تک دجلہ اور فرات تیک کے علاقے اس کے اندر شامل نہ کئے جاویں اس کی حیثیت جزیرہ کی نہیں بنتی کیونکہ اس صورت میں اس کے چاروں طرف پانی نہیں رہتا ۔ لیکن یہ یہ وا دلیل درست نہیں کیونکہ عرب لوگ ان ممالک کو بھی جزیرہ کہتے ہیں جن کے زیادہ حصہ کے گرد پانی ہو اور کم حصہ خشکی کے ساتھ ملتا ہو۔ چنانچہ جس نے تاریخ کا ذرا بھی مطالعہ کیا ہو وہ جانتا ہے که عرب لوگ سین کو بھی جزیرہ کہتے تھے اور اس کو جزیرہ اندلس کے نام سے موسوم کرتے تھے حالانکہ ایک جہت سپین کی فرانس سے ملی ہوئی ہے ۔ لسان العرب اور تاج العروس کے مصنف اس کے مادہ کے نیچے لکھتے ہیں کہ وَانْدُ لُسُ جَزِيرَةً مَعْرُوفَةٌ " السان العرب زير لفظ " ولا دلس" مطبوعہ بیروت ۱۹۸۸ء تاج العروس زیر لفظ " دلس" مطبوعہ مصر (۱۳۰۶ هـ ) یعنی اندلس (مبین ) ایک مشہور جزیرہ ہے۔ پس جزیر کے لفظ سے یہ استدلال کرنا کہ اس کے اردگرد پانی کا ہونا ضروری ہے ایک غلطی ہے ۔ اس بحث سے ہمارا یہ مدعا نہیں کہ عراق میرا اس تمام تحریر سے یہ مطلب نہیں کہ چونکہ عراق عرب میں شامل نہیں یا اس کی شمولیت پر ضرور انگریزوں کا قبض ہونا چاہیے مشتبہ ہے اور خود حضرت عمر نے اس کو عمان جزیره عرب شامل نہیں کیا اس لئے عراق پر انگریزوں کو قبضہ کر لینا چاہئے یا یہ کہ عرب کے اندرونی علاقہ میں انگریزوں کو شوق سے داخل ہو جانا چاہئے بلکہ میں انکے اس فعل کو سختی سے ناپسند کرتا ہوں اور عراق تو کیا میں تو چاہتا ہوں کہ وہ اپنے پرانے مقبوضہ علاقہ عدن سے بھی واپس آجائیں تو بہت اچھی بات ؟ لیکن مجھے صرف اس پر اعتراض ہے کہ ان باتوں کو مذہب کے عظیم الشان احکام بنا کر دنیا کے بگڑے ہوئے امن کو اور نہ بگاڑا جاوے اور مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو نہ توڑا جاوے اور عوام الناس کو جو حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے جوش دلا کر ان کی ہلاکت اور اسلام کی بدنامی کے سامان نہ پیدا کئے جاویں ور نہ مجھے تو اس قدر بھی پسند نہیں جس کی اجازت ترکی حکومت نے دے رکھی ہے اور میں تو یہی کہوں گا کہ اگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پھر طاقت دے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے ادب اور احترام کے طور پر مین اور دوسرے عرب علاقوں میں بسنے والے غیر مذاہب کے پیروؤں کو دوسرے ممالک میں خواہ ان کی موجودہ جائیدادوں سے ں سے بہت زیادہ قیمتی جائیدادیں لے کر دے دی جاویں مگر محبت اور پیار سے سمجھا کر ان کو عرب کے علاقہ سے بالکل ہی رخصت کر دیا جاوے لیکن میں اس کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا کہ جس