انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 248

انوار العلوم : ترک موالات اور احکام اسلام کے ترک موالات کیا جا سکتا ہے بلکہ بعض وقت الیسا کرنا فرض ہوتا ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ اس شرعی فرض میں اپنی طرف سے تغیر کیوں کر لیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ تو ان لوگوں کی نسبت جن سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے کئی ترک موالات کا فتوی دیتا ہے۔پھر یہ کس کا اختیار ہے کہ اس حکم کو نرم با سخت کر دے ؟ حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنا تو ایک خطرناک جرم ہے۔پس اگر ترک موالات ایک شرعی حکم ہے تو پھر اس کے مدارج مقر کرنے کا سی کو کیا اختیار ہے ؟ اور عام کا لجوں کے طالب علموں کو تعلیم جاری رکھنے سے منع کرنا اور طبی کالجوں کے طلباء کو پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے ؟ پھر انگریزوں سے تجارت کرنا کس طرح جائز ہے ؟ کیا ترک موالات والی آیت میں تِجَارَةٌ تَخْشَونَ كَسَادَهَا " (التوبہ (۲۴) کا ذکر خاص طور پر نہیں کیا گیا ؟ پھر اگر واقع میں یہ حکم شرعی ہے تو کیوں تجارت کو بند نہیں کیا جاتا ؟ کیوں طبی کالجوں کے طلباء کو بھی پڑھائی چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جاتا ؟ کیوں چوری وغیرہ جرائم کے موقع پر پولیس کی مدد لی جاتی ہے ؟ یا کم سے کم کیوں اعلان نہیں کیا جاتا کہ اگر کسی کے چوری ہو جاوے تو وہ پولیس میں اطلاع نہ کرے ؟ کیوں ریل میں سوار ہوا جاتا ہے ؟ کیوں ڈاک سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے ؟ کیوں تار کے محکمہ سے نفع حاصل کیا جاتا ہے ؟ کیا قرآن کریم کی ان آیات میں جن میں ترک موالات کا فتویٰ دیا گیا ہے کوئی حد بندی کی گئی ہے ؟ یا ان آیتوں کے سوا اور کوئی آیات ہیں جنہوں نے ان محکموں سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت دے دی ہے ؟ اگر یہ ترک موالات شرعی ہے تو اسے اپنے آپ کیوں محدود کر لیا گیا ہے اور اگر مسٹر گاندھی کے کہنے پر ہے تو اس کا نام شرعی فرض کیوں رکھا جاتا ہے ؟ کیا ترک موالات کے حامیوں کے پاس ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب نہیں کہ مسٹر گاندھی نے چونکہ ایسا کہا ہے اس لئے ہم اس طرح کرتے ہیں ؟ گھر میں کہتا ہوں کہ ہم یہ نہیں کہنے کہ اس طرح نہ کرو جس طرح مسٹر گاندھی کہتے ہیں اگر کسی کے خیال میں مسٹر گاندھی کا پروگرام مفید اور قابل عمل معلوم ہوتا ہے تو وہ بے شک اس پر عمل کرے۔مگر مسٹر گاندھی کے قول کو قرآن کریم کیوں قرار دیا جاتا ہے ؟ شریعت اس کا نام کیوں رکھا جاتا ہے ؟ اگر یہ بات ہے تو لوگوں سے یہ کہو کہ چونکہ مٹر گاندھی اس طرح فرماتے ہیں اس طرح تم کو عمل کرنا چاہئے یہ کیوں کہتے ہو کہ شریعت اسلام کا یہ فتوئی ہے ؟ شریعت اسلام نے غیر مسلموں سے ترک موالات کرنے کا جن شرائط کے ساتھ حکم دیا ہے وہ شرائط تو جب بھی کسی قوم میں پائی جائیں اس سے ہرقسم کی امداد لینی یا اسکو کسی قسم کی مرد دینی نا جائز ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ تنذیل