انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 246

۲۴۶ ترک موالات اور احکام اسلام پھیلانے والی اور امن کو دور کرنے والی ہوگی۔اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کا جہاد کی فرضیت سے انکار صاف بتا رہا ہے کہ عدم تعاون کے بانی ہرگزہ انگریزوں کی نسبت یقین نہیں کرتے کہ یہ مذہبی جنگ کر رہے ہیں اور اگر مذہبی جنگ نہ ہو تو ترک موالات کا حکم قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔پس دونوں باتوں میں سے ایک بات کا فیصلہ ہونا چاہئے یا تو انگریزوں کی نسبت فیصلہ کیا جائے کہ وہ دین اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار لے کر کھڑے ہو گئے ہیں اور جبر سے اشاعت اسلام کو روکتے ہیں اور یا پھر ان کو معاہدین کے زمرہ میں شامل رکھا جاوے۔مذہبی پہلو سے اور کوئی تیسری صورت جائز نہیں۔اگر پہلی صورت فرض کی جائے تو پھر اول ہجرت اور بعد میں جہاد اور ترک موالات کرنا شریعت کا حکم ہے۔جسے نہ کوئی مولوی منسوخ کر سکتا ہے نہ کوئی کمیٹی منسوخ کر سکتی ہے کیونکہ خدا ان حالات سے ناواقف نہ تھا جو اب ظاہر ہو رہے ہیں۔اگر اس وقت ان تمام احکام پر عمل کرنا ضروری نہیں جن پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ضروری تھا تو پھر قرآن ایک وقتی ہدایت نامہ ہے یا خدا تعالیٰ کا علم ناقص ہے لیکن اگر قرآن ہمیشہ کے لئے ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا علم کا ہے تو قرآن کریم کی صریح تنظیم کے بعد کوئی شخص یا کوئی کمیٹی یا کوئی علماء کی جماعت نیا فتوی نہیں دے سکتی۔اور اگر دوسری صورت میں یعنی انگریز مذ ہب اسلام کو مٹانے کے لئے اور جبراً اسلام سے پھرانے کے لئے نہیں کھڑے ہوئے تب شریعت اسلام کے احکام کے مطابق ان سے ترک موالات کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ب لا يتهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمُ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُم أن تبردُهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (المتحن : 9) اللہ تعالیٰ تم کو ہرگز منع نہیں کرتا ان لوگوں کے متعلق جو تم سے بر سر جنگ نہیں ہیں اور جنہوں نے تم کو گھروں سے نہیں نکالا کہ ان سے نیکی کرو اور ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو۔اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" مذہبی جنگ کرنیوالا وہی کا فر محار ہے جو جنگ میں میل کرے اس معاملہ پر غور کرتے وقت یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم نے مذہبی جنگ کی یہ بھی شرط بتائی ہے کہ هُم بَدَءُوكُمْ أول مرة (التوبہ : ۱۳) انہوں نے تم سے پہلے جنگ شروع کی ہو" لیکن کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ ترکوں سے جنگ پہلے انگریزوں نے شروع کی تھی۔جب جنگ کی ابتداء ترکوں کی طرف سے ہوئی ہے