انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 244

انوار العلوم جلد ۵ ۲۴۴ ترک موالات اور احکام اسلام اس سوال کا جواب کہ ہم جنگ کرنا نہیں جانتے اسی طرح اگر انگریز واقع میں اسلام کے مٹانے کے لئے ایک مذہبی جنگ کے مرتکب ہیں تو کوئی شخص یہ کہ کر کہ میں لڑائی نہیں جانتا اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا قرآن کریم نے اس قسم کے حیلہ سازوں کو منافق کہا ہے اور اسلام سے خارج قرار دیا ہے ۔ کون سا کام ہے جو انسان کا پیدائش سے پہلے ہی سیکھا ہوا ہوتا ہے ؟ ہر ایک کام سیکھ کر آتا ہے ۔ حکومت برطانیہ نے چند سال میں ا لاکھ فوج سکھائی یا نہیں؟ پس یہ کہنا کہ ہم لوگ جنگ نہیں جانتے ایک منافقانہ عذر ہو گا۔ اللہ تعالی منافقوں کی نسبت فرماتا ہے ۔ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قتَالاً قِتَالًا لا لا تَبَعْنَكُمُ ، هُم لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُم لِلإِيمَانِ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ : (ال عمران : ۱۶۸) منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے راستہ میں لڑو یا یوں کہو کہ دشمن کا حملہ دور کرو۔ تو جواب دیتے ہیں کہ اگر ہمیں لڑائی کا فن آتا تو ہم ضرور تمہارے ہمراہ چلتے ۔ یہ لوگ اس دن جب انہوں نے یہ بات کبھی ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے یہ لوگ وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں اور اللہ خوب جانتا ہے اسے جو یہ چھپاتے ہیں۔ b 2۔ پس اگر واقع میں کوئی مذہبی جنگ شروع ہے اور اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے مٹایا جارہا ہے جو ترک موالات کے لئے شرط ہے۔ تو اس سے پہلے ہجرت کرنا اور پھر جہاد کرنا بھی فرض ہے اور اگر یہ دونوں باتیں فرض نہیں تو یقیناً ترک موالات بھی فرض نہیں کیونکہ ترک موالات اسی قوم سے ہوتی ہے جس سے مذہب کی خاطر جنگ ہو رہی ہو۔ کیا انگریزوں کو جبراً اسلام کے مٹانے والے قرار دینا اور ہجرت و جہاد کے بغیر ترک موالات کا فتویٰ دینا اسلام پر تمسخر نہیں ؟ میں ہر ایک اس شخص سے جو قرآن کریم اور شریعت اسلام کا ادب دل میں رکھتا ہے دریافت کرتا ہوں کہ وہ اپنے سچے دل سے یہ بتائے کہ کیا واقع میں انگریز اسلام کو جبراً مٹا رہے ہیں اور پکڑ پکڑ کر لوگوں کو سیحی بنا رہے ہیں ؟ اور اس لئے مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں کہ کیوں وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور اور قرآن کو مانتے ہیں؟ اگر یہ بات نہیں تو وہ بیدار ہو جاوے کہ اس وقت کسی طرح شریعیت اسلام سے تمسخر کیا جا رہا ہے اور اس کی محبت کا دعوی کر کے اس کی ہنسی اُڑائی جا رہی ہے اور اس سے دشمنی کی جاتی