انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 242

انوار العلوم جلد ۵ ۲۴۲ ترک موالات اور احکام اسلام کر رہے ہیں اور اب تک بر سر جنگ ہیں تو بھی ان سے ترک موالات کا حکم نہیں ۔ پہلا حکم ان کے مقبوضہ ملک سے نکل جانے کا ہے اور پھر ترک موالات کا حکم ہوگا اور کسی کا حق نہیں کہ اس آسان حکم کو تو لے لے اور شریعت کے اصل حکم کو چھوڑ دے لیکن جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ سب بات ہی غلط ہے اور اس پر بناءُ الْفَاسِدِ عَلَى الْفَاسِدِ کی مثل صادق آتی ہے ۔ نہ انگریز مسلمانوں سے دین اسلام سے جبراً توبہ کرانے اور اسلام کو مٹانے کے لئے لڑ رہے ہیں اور نہ یہ حربی کافر ہیں کہ ان کے مقبوضہ ملک سے ہجرت کی جائے اور جب ہجرت کا حکم نہیں تو ترک موالات کا بھی حکم نہیں کیونکہ ترک موالات ہجرت کے بعد ہوتا ہے نہ ہجرت سے پہلے ۔ اگر انگریز واقعی حربی کافر ہیں تو صرف ہجرت بھی پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر انگریز واقعی حربی کافر ہیں جو کافی نہیں بلکہ اس کے بعد دوسرا قدم جہاد ہے اسلام کے مٹانے کے لئے مسمانوں مسلمانوں پر حملہ کر رہے ہیں اور ان سے جنگ کر رہے ہیں اور ان کو گھروں سے نکال رہے ہیں۔ جو شرطیں کہ ترک موالات کے لئے ضروری ہیں تو صرف ہجرت بھی کافی نہ ہو گی بلکہ ہجرت پہلا قدم ہو گا۔ ہجرت کے بعد دوسرا قدم جہاد ہو گا۔ کیونکہ جو تو میں اسلام کے مٹانے کے لئے لڑتی ہیں ان سے جنگ کرنا اور ان کے حملہ کا جواب دینا سب مسلمانوں پر فرض ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَابْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَ تُكُمُ وَأَمْوَالُ قتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشُونَ كَسَادَهَا وَ مَكِنُ تَرْضُونَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى القَومَ الْفَسِقِينَ ، والتوبة : ۲۴) اے لوگو اگر تمہارے باپ دادے اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور رشتہ دار اور دوست اور مال جو تم نے کمائے اور تجارتیں کہ جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور گھر جو تم کو پسند آتے ہیں تمہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کے راستہ ہمیں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجاوے اور اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا " پس اگر انگریز واقع میں اسلام کو مٹانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں تو اول ان کے مقبوضہ ملک سے ہجرت اور پھر ان سے ۔ ان سے جنگ کرنی ہر مسلمان پر واجب ہو جاتی ہے کیونکہ جو قوم مذہب کے لئے تلوار اُٹھاتی ہے وہ ہرگز اس قابل نہیں ہوتی کہ اسے دنیا میں حکومت کرنے کا موقع دیا جاوے۔