انوارالعلوم (جلد 5) — Page 6
دیا۔بچوں کے جوش کا یہ حال تھا کہ ایک بچہ نے جو ایک غریب اور محنتی آدمی کا بیٹا ہے مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کرنے کے لئے ملتے تھے ، ان کو میں جمع کرتا رہتا تھا وہ میں سب کے سب اس چندہ کے لئے دیتا ہوں نہ معلوم کن کن اُمنگوں کے ماتحت اس بچہ نے وہ پیسے جمع کئے ہونگے۔لیکن اس کے مذہبی جوش نے خدا کی راہ میں ان پیسوں کے ساتھ ان اُمنگوں کو بھی قربان کروا دیا۔أَنْبَتَهُ اللهُ نَبَاتَا حَسَنًا۔مدرسہ احمدیہ کے غریب طالب علموں نے جو ایک سو سے بھی کم ہیں اور اکثران میں سے وظیفہ خوار ہیں ساڑھے تین سو روپیہ چندہ لکھوایا۔اور ان کی مالی حالت کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ کے لئے اپنی اشد ضروریات کے پورا کرنے سے بھی محرومی اختیار کرلی۔اسی طرح ٹریننگ کلاس کے طلباء نے جن کی کل تعداد اٹھارہ ہے ، ساڑھے تین سو روپیہ چندہ لکھوایا۔مدرسہ ہائی کے بچوں نے چھ سو کے قریب چندہ لکھوایا۔غرض بچوں نے بھی اس اخلاص کا نمونہ دکھایا جو دوسری اقوام کے بڑوں میں بھی موجود نہیں ہوتا۔یہ حال جب عورتوں اور بچوں کا تھا جو وجہ کی علم یا قلت تجربہ کے دینی ضروریات کا اندازہ پوری طرح نہیں کر سکتے تو مردوں کا کیا حال ہو گا۔اسے خود قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایک بڑی تعداد ایسے آدمیوں کی تھی جنہوں نے اپنی ماہوار آمد نیوں سے زیادہ چندہ لکھوایا۔جن میں سے ایک معقول تعداد ان لوگوں کی تھی جنھوں نے تین تین چار چار گنے چندہ لکھوایا۔بعض لوگوں کا حال مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ نقد پاس تھا انہوں نے دیدیا اور قرض لیکر کھانے اور پینے کے لئے انتظام کیا۔ایک صاحب نے جو بوجہ غربت زیادہ رقم چندہ میں داخل نہیں کر سکتے تھے نہایت حسرت سے مجھے لکھا کہ میرے پاس اور تو کچھے نہیں میری دکان کو نیلام کر کے چندہ میں دیا جاوے گوان کی اس درخواست کو میں قبول نہیں کر سکتا تھا۔مگر اس سے اس اخلاص کا پتہ لگتا ہے جو انکے دلوں میں موجزن تھا۔بعض لوگوں نے سکنی زمینیں چندہ میں دیدیں۔غرض بے نظیر قربانی کے ساتھ قادیان کی غریب جماعت نے بارہ ہزار روپیہ کے قریب چندہ لکھوایا اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس میں سے اکثر حصہ نقد وصول ہو گیا اور لوگوں نے بجائے آہستہ آہستہ چندہ ادا کرنے کے زیورات وغیرہ فروخت کر کے اپنے و عدسے ادا کر دیئے اور باقی بھی عنقریب انشاء اللہ وصول ہو جا وینگے۔جَزَاهُمُ اللهُ خَيرًا۔میرا قادیان کے حالات کے بیان کرنے سے جہاں یہ مطلب ہے کہ بیرون جات کے احبا"