انوارالعلوم (جلد 5) — Page 235
انوار العلوم جلد ۵ ۲۳۵ ترک موالات اور احکام اسلام "اے مومنو! اگر تمہارے باپ اور بھائی کفر کو ایمان سے زیادہ پسند کرتے ہیں تو ان سے دوستی نہ کرو اس آیت کے آگے اور پیچھے جہاد کا ہی ذکر ہے پس اس جگہ بھی دوستی سے مراد ان لوگوں سے تعلق ہے جو اس وقت مسلمانوں سے دین کی وجہ سے لڑ رہے تھے اور اگر اس کو عام کیا گیا تو پھر ہندوؤں سکھوں وغیرہ قوموں سے بھی اس آیت کے ماتحت تعلق منع ہو جاوے گا اور اگر ان سے موالات کرنا سورہ ممتحنہ والی آیت کے ماتحت جائز قرار دیا گیا تو انگریزوں سے موالات کی اجازت بھی اسی آیت سے نکل آوے گی۔اسی طرح ایک یہ آیت بھی سند کے طور پیش کی جاسکتی ہے کہ ولا تمیری آیت تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدُ وَ انِ (المائدة : 3 ) بدی اور زیادتی کے معاملہ میں کسی کی مدد نہ کرو اور یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ چونکہ انگریز اس وقت ایک گناہ کا کام کر رہے ہیں اس لئے ہمیں ان کی مدد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس سے ان کو طاقت ملے گی اور یہ گناہ اور زیادتی پر اور بھی دلیر ہو جا دیں گے۔یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے دوسری کتب مقدسہ سے ایک زائد تعلیم دی ہے جو اور کسی کتاب میں موجود نہیں دمیرا مطلب یہ ہے کہ اس امر کے متعلق۔ورنہ ہزاروں تعلیمیں پرانی کتب سے زائد ہیں بلکہ نئی فلسفی کتب سے بھی۔چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔کہاں دیگر کتب کہاں قرآن کریم ) اور وہ یہ ہے کہ اس نے بد اور بدی میں فرق کیا ہے اس نے بہت سے موقعوں پر بد کو قابل رحم قرار دیا ہے لیکن بدی کو سرسری نظر سے دیکھنے کی کبھی اجازت نہیں دی۔وہ بد کے متعلق حکم دیتا ہے کہ اس سے عفو سے کام لو لیکن بدی کی نسبت کہیں نہیں فرماتا کہ اس سے بھی چشم پوشی سے کام لو۔چنانچہ اس آیت کے پہلے حصہ میں اس نے حکم دیا ہے وَلا يَجْرِ مِنكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَدَّ وَكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أن تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى البَرَدَ التَّقْوى (المائدة : 3 ) کسی قوم کی دشمنی یعنی اس کا تم کو مسجد الحرام سے روکنا تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اس پر زیادتی کرو۔یہ نہ کرو بلکہ اس کے برخلاف نیکی اور تقوی کے کاموں میں لوگوں کی مدد کرو اور آگے فرمایا وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ والْعُدْوَانِ (المائدة : 3 ) اور نہ مرد کرو آپس میں ایک دوسرے کی گناہ اور زیادتی میں " پس اس آیت میں جہاں ایک طرف ظالم کے لئے موقع مناسب کے مطابق رحم کی سفارش کی ہے وہاں دوسری طرف بدی کے مٹانے کی بھی تعلیم دی ہے یہ حکم نہیں دیاگیا کہ گنہگار اور زیادتی کرنے والے کے ساتھ مل کر کوئی کام نہ کرو بلکہ یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ گناہ اور زیادتی میں کسی کی مدد نہ کرو۔پس گو انگریزوں سے کوئی