انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 228

انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۸ ترک موالات اور احکام اسلام تعلق کا بیان ہے جو دو محبت کرنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔پس ان آیات سے ترک موالات کا فتوی نکالنا کسی طرح درست ہو ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی فتوی نکلے گا تو وہ اسی طرح جس طرح انگریزوں پر چسپاں ہوگا ہندوؤں پر بھی چسپاں ہوگا کیونکہ ان آیات میں تمام کفار کا ذکر ہے نہ صرف یہود و نصاری کا۔اذان وغیرہ پر تمسخر اور استہزاء انگریز یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گومسیحی اسلام پیرکس قدر ہی اعتراض کیوں نہ کرتے ہوں مگر وہ کرتے ہیں یا ہندو سکھ وغیرہ ؟ ہمارے دین کی اور اذان کی تضحیک نہیں کرتے بلکہ ان لوگوں میں جن کے ساتھ موالات جائز رکھی جاتی ہے یعنی ہندوؤں اور سکھوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو تمسخر سے کام لیتے ہیں اور اذان پر شور مچاتے ہیں بلکہ فساد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔یہ حکم کسی قوم کے متعلق نہیں مگر جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ اس آیت کے الفاظ اور بلکہ افراد کے متعلق ھے دوسری آیات کی تشریح سے ان آیات کے یہی معنی معلوم ہوتے ہیں کہ اس جگہ کسی قوم پر بحیثیت مجموعی قومی نہیں دیا گیا جس طرح پہلی آیات میں دیا گیا تھا کہ جو قوم تم سے دین کی خاطر جنگ کرتی ہو اس کے کسی شخص سے تعلق دوستی نہ رکھو بلکہ اس میں افراد کے متعلق حکم ہے کہ یہودیوں عیسائیوں یا دوسرے کافروں میں سے جو لوگ دین سے تمسخر کرنے والے ہوں ان سے رنہ کہ ان کی ساری قوم سے) دوستانہ تعلقات نہ رکھو ورنہ تم بھی ان ہی میں شامل سمجھے جاؤ گے اس حکم کے ماتحت گو انگریزوں سے ہماری صلح ہو مگر جو انگریز بھی ہمارے دینی احکام پر ہنسے گا اور دین پر بجائے سنجیدگی سے غور کرنے کے تمسخر اڑائے گا ہم اس سے میل ملاپ نہ کریں گے اور اس کی صحبت میں نہ بیٹھیں گے جب تک وہ سنجیدگی پیدا نہ کرے۔اسی طرح ہنود سے گو ہماری صلح ہو مگر ان میں سے اگر کوئی شخص ہمارے دین سے تمسخر کرے گا تو ہم اس کے ساتھ بیٹھنا اُٹھنا بند کر دیں گے جب تک وہ اپنی اس عادت سے باز نہ آجا وسے اور اگر کوئی ایسے شخص سے دوستانہ تعلقات رکھے گا اور اس کی مجلس میں خوب شوق سے جاتا ہو گا توہم اس کی نسبت بھی یقین کریں گے کہ وہ اسلام سے بیزار ہے اور اس شخص کا ہم خیال ہے۔ان ہر دو قسم کی آیات کے احکام میں فرق غرض پہلی چار آیات یں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ اقوام کے متعلق ہیں جن اقوام پر وہ احکام چسپاں ہوتے ہوں ان کے کسی فرد سے بھی ہم تعلق نہیں رکھ سکتے جب تک وہ ان کو چھوڑ کر ہم سے نہ