انوارالعلوم (جلد 5) — Page 221
انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۱ ترک موالات اور احکام اسلام سورہ مستحنہ کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوست بنانے اور نہ بنانے کے لئے شرائط ہیں ان کو نظر اندازہ نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا ان شرائط کو ہنود کے لئے ہی نظر اندازہ نہیں کیا جا سکتا مسیحیوں کے لئے نظر انداز کیا جا سکتا ہے جن کی نسبت اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اقرَبَهُمْ مَوَدَّةً (المائدة : ۸۳) یعنی محبت میں وہ دوسری قوموں کی نسبت مسلمانوں سے سب سے زیادہ قریب ہیں جب وہ شرائط جن کے پائے جانے کی وجہ سے ہنود قابل موالات سمجھے گئے ہیں مسیحیوں میں بھی پائی جاتی ہیں تو ان سے ترک موالات کرنا شرعی فتوی کے ماتحت کیونکر درست اور جائز ہو سکتا ہے ؟ اس آیت میں بھی حربی کافروں سے تولی منع کی گئی ھے پھر میں اس آیت کی ۔ نسبت بھی وہی کہتا ہوں جو پہلی آیت کی نسبت کہہ چکا ہوں کہ اس آیت کا مضمون بھی صاف بتا رہا ہے کہ جن لوگوں سے تو تی منع کی گئی ہے وہ حربی کافر ہیں کیوں کہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ کرو ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس وقت برسر پیکار تھی اور اس سے تعلق رکھنا خود اس حکومت اور اس جماعت کے خلاف تھا جس کے وہ لوگ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے افراد تھے پھر اس آیت سے اگلی آیات کو بھی دیکھا جاوے تو ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس قوم کے متعلق ہے جو ہم سے دین کے متعلق جنگ کر رہی ہو یا دین کی وجہ سے ہمیں اپنے گھروں سے نکالتی ہو کیونکہ آگے چل کر اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ أَنكُمْ إِذَا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكُفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا هُ الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحُ مِنَ اللهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَفِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذُ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ * فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ، وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْغَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سبيلاً والمنساء : ۱۴۱ - ۱۴۲ ) یعنی " اور تحقیق تم پر کتاب میں یہ نازل ہو چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے انکار کیا جاتا ہے اور ان سے منسی کی جاتی ہے تو ایسا کرنے والے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھا کرو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں ورنہ تم بھی ان ہی میں شامل سمجھے جاؤ گے ۔ ضرور اللہ تعالیٰ ان منافقوں اور کافروں کو جہنم میں جمع کرے گا جو تمہاری ہلاکت کے منتظر ہیں اگر اللہ تعالی کی طرف سے تمہاری فتح کا سامان ہوتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور زملے