انوارالعلوم (جلد 5) — Page 219
انوار العلوم جلد ۵ ۲۱۹ ترک موالات اور احکام اسلام ہوتا ہے۔اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تقیہ مخالفتہ الناس کے وقت ہوتا ہے۔اسی طرح دیگر مفسرین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حصہ آیت جنگ کے ایام پر دلالت کرتا ہے جب مسلمانوں کو جبراً اسلام سے نکالا جاتا ہو اور زبردستی پکڑ کر ان سے اسلام سے بیزاری کا اعلان کروایا جاتا ہو۔اور اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ایسے کفار سے تعلقات رکھنا گویا خود اسلام کے چھوڑنے کی خواہش کرنا ہے مگر کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ انگریز جبراً پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اسلام سے توبہ کرا کر مسیحی بناتے ہیں اگر نہیں تو اس آیت سے ان کے خلاف عدم تعاون کا فتقومی نکالنا کس طرح درست ہو سکتا ہے ؟ اس آیت کا وہ حصہ جسے مفتیوں نے غلطی سے چھوڑ دیا ہے صاف بتا رہا ہے کہ ترک موالات ان ہی کافروں سے ہونی چاہئے جو جبراً اسلام سے پھراتے ہوں اور گھر کا اقرار کرتے ہوں۔گو یہ بات اس مضمون سے تعلق نہیں رکھتی لیکن چونکہ تقیہ کے متعلق سلف وخلف کا فتویٰ به آیت مضمون میں آگئی ہے اور مجھے ایک ایسے معنے اس آیت کے لکھنے پڑے ہیں جو عام طور پر اس وقت کے مسلمانوں میں رائج ہیں اس لئے میں اس قدر ضرور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس آیت کے ان معنوں کا قائل نہیں بلکہ میرا مذ ہب امام احمد بن حنبل کی طرح یہ ہے کہ إِذَا أَجَابَ الْعَالِمُ تَقِيَّةٌ وَالْجَاهِلُ يَجْهَلُ فَمَتَى يَتَبَيَّنُ الْحَقُّ وَالَّذِى نُقِلَ إِلَيْنَا خَلَنَّا عَنْ سَلَفٍ اَنَّ الصَّحَابَةَ وَتَابِعِيهِمُ وَ تَابِعِي تابِعِيهِمُ ذَلُوا أَنفُسَهُمْ فِي ذَاتِ اللهِ وَإِنَّهُمْ لَمْ تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةٌ لَائِمٍ وَلَا سَطوَة جَبَّارٍ ظَالِم یعنی جب واقف آدمی لوگوں سے ڈر کر کوئی غلط بات کہہ دے اور جاہل کو معلوم ہی نہ ہو تو حق پھر کب ظاہر ہو گا ؟ اور جو کچھ بھی ہمیں پیچھے بزرگوں سے ابتدائی زمانہ کے بزرگوں کے متعلق روایت پہنچی ہے وہ تو یہی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعی اور ان کے تابعی خدا کے واسطے اپنی جانیں قربان کر دیتے تھے اور علامت کرنے والے کی علامت سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ ظالم اور جاہر کے حملہ اور اس کی گرفت سے ڈرتے تھے۔اس حوالہ سے ظاہر کہ نہ صرف حضرت احمد بن حنبل اپنے خیال کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ وہ اس زبر دست تاریخی شہادت کی بناء پر جو ان کے علم حدیث کے امام ہونے کے لحاظ سے ان کے زیر نظر تھی۔صحابہ رضی اللہ عنہ کو بھی اپنا ہم خیال بتاتے ہیں اور واقعہ یہی ہے کہ ایک دو صحابیوں رضی اللہ عنم کے جو اقوال بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے بعض کا تو مطلب ہی نہیں سمجھا گیا اور بعض کی روایت نہایت کمزور ہے۔