انوارالعلوم (جلد 5) — Page 217
انوار العلوم جلد ۵ ۲۱۷ ترک موالات اور احکام اسلام میں جو لفظ توئی کا استعمال ہوا ہے اس کے معنی وہ دوستی اور مدد کے کرتے ہیں۔پس دیکھنا چاہئے کہ آیا یہ دونوں معنی تمام آیات میں چسپاں ہوتے ہیں یا مختلف آیات میں مختلف معنے چسپاں ہوتے ہیں ؟ کیونکہ بسا اوقات ایک لفظ جو کئی معنے رکھتا ہو کسی فقرہ میں ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے معنے میں اور کسی میں دونوں معنوں میں پس صرف لغت دیکھنا کافی نہ ہوگا بلکہ ان آیات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ ان میں یہ لفظ اپنے متعدد معنوں میں سے کس معنے میں استعمال ہوا ہے یا یہ کہ سارے ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔انگریزوں کے متعلق فتوی دیتے وقت ان کو مد نظر رکھا جاوے اور میرے نزدیک ان آیات میں یہ لفظ دو مختلف صورتوں میں استعمال ہوا ہے۔بعض میں تو دوستی اور اعداد دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے اور بعض میں صرف دوستی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔امداد کے معنے ان آیات میں مدنظر نہیں ہیں۔جو آٹھ آیتیں پیش کی جاتی ہیں ان میں سے پانچ میں تو دوستی اور امداد کے معنے ہیں اور دو میں دوستی کے۔ایک آیت بالکل جدا گانہ حیثیت رکھتی ہے جس کا میں سب سے آخر میں ذکر کروں گا۔آیات قسم اول سب سے پہلے میں ان آیات و لیتا ہوں جن میں دوستی اور امداد کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور بتاتا ہوں کہ ان کا اطلاق ہرگز اس زمانہ کے حالات پر نہیں ہو سکتا اور انگریزوں کے خلاف ان کے احکام کی بناء پر فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔پہلی آیت اس قسم کی آیات میں سے پہلی آیت یہ ہے لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الكَفِرِينَ أولياء مِنْ دُونِ المُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلُ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ في شيء - (ال عمران : ۲۹) یہ آیت مفتیوں نے پوری نہیں لکھی اس کے ساتھ کا حصہ جو اس کے معنوں پر روشنی ڈالتا ہے یہ ہے - إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمُ تُقةَ ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللهُ نَفْسه وَإِلَى اللهِ المَصِيرُ (ال عمران : ۲۹) جو حصہ ترک موالات کے حامیوں نے لکھا ہے اس کا ترجمہ خود ان ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ وہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو اپنا دوست و مددگار بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کو اللہ سے کچھ تعلق نہیں اس آیت میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ مسیحیوں یا یہودیوں سے ایسا سلوک نہ کرو بلکہ بلا شرط حکم ہے کہ جو بھی کافر ہو اس سے دوستی نہ رکھو لیں اس آیت سے یہ فتوی نکالنا کہ انگریزوں ہی سے ترک موالات کی جاوے درست نہیں بلکہ اس آیت کے ماتحت تو سب ان لوگوں سے جو اسلام کا دعوی نہیں کرتے ترک موالات کرنی پڑے گی۔