انوارالعلوم (جلد 5) — Page 216
کیو ترک موالات اور احکام اسلام لڑنے کے لئے کس طرح گئے ؟ اور ہندوستان کے ہزاروں مولوی اس وقت کہاں گئے ہوئے تھے ؟ اگر مان بھی لیا جاوے کہ بعض کو گورنمنٹ نے خاموش رکھنے کے لئے قید کر دیا تھا تو بھی باقی ہزاروں علماء تھے ان میں سے کوئی کیوں نہ بولا ؟ یہ عجیب ذہول ہوا کہ خود اپنے ہاتھوں سے ملک فتح کیا اور پانچ سال کے عرصہ میں کسی کو خیال نہ آیا کہ انگریز تو مذہبی جنگ کر رہے ہیں ان سے تو علیحدہ رہنے کا نہیں حکم ہے بلکہ ان سے تو بات کرنی بھی جائز نہیں۔ذرا سوچو تو سہی کہ کیا اس وقت جنگ کر کے اب ترکوں کی حمایت کرنا اور ان کے خلاف جنگ کو مذہبی جنگ قرار دینا کہیں مسلمانوں کو اس فتویٰ کے نیچے تو نہیں لے آتا۔ثُمَّ انتُم هُوَ لا تَقْتُلُونَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمُ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُم أسرى تُفَدُوهُمْ وَهُوَ محرم عليكم إخْرَاجُهُمُ افَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الكِتب وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ۔البقرة :۱۶، یعنی اللہ تعالیٰ یہودیوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ پھر تم وہ لوگ ہو کہ اپنی جانوں کو قتل کرتے ہو (یعنی اپنے ہم مذہبوں کو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کے معاملات میں لوگوں کی مددکرتے ہو اور اگر تمہارے پاس وہ قید ہو کر آجاویں تو پھر تم انکو فدیہ دے کر آزاد کرانا چاہتے ہو حالانکہ ان کا نکالنا ہی تمہارے لئے حرام تھا کیا تم کتاب کے کچھ حصہ پر ایمان لاتے ہو اور کچھ حصہ کا انکار کرتے ہو ؟ اب میں کافی طور پر ثابت کر چکا ہوں کہ وہ آیت جسے ترک موالات کے مفتیوں نے ہنود سے دوستانہ تعلق رکھنے کے جواز میں پیش کیا ہے اسی سے انگریزوں سے موالات کرنا جائز ثابت ہوتا ہے۔پیس مفتی صاحبان نے فتویٰ دینے میں غلطی کی ہے اور قرآن کریم کے صریح الفاظ کی موجودگی میں اُصولِ اسلام کے خلاف فتویٰ دے دیا ہے اور ایسا فتوی مسلمانوں کے لئے قابل عمل نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا نا جائز ہے۔آیات پیش کردہ پر تفصیلی نظر تمام آیات پیش کردہ پر ایک اجمالی نظر ڈالنے کے بعد میں تفصیلی طور پر ان آیات کے مضمون پر نظر ڈالنی چاہتا ہوں تاکہ حقیقت کے طالبوں کو یہ معلوم ہو جاوے کہ وہ آیتیں اپنی ذات میں بھی اس دعوی کی تصدیق نہیں کرتیں جو بعض علماء کے فتویٰ میں پیش کیا گیا ہے۔ان آیات کی تین اقسام آٹھ آیت میں جو ترک موالات کی تائید میں پیش کی گئی ہیں میرے نزدیک یہ تین اقسام میں تقسیم ہیں اور تینوں کے متعلق نہیں الگ الگ غور کرنا چاہئے۔مولوی محمود الحسن صاحب نے اپنے فتوی میں خود تحریر فرمایا ہے کہ قرآن کریم