انوارالعلوم (جلد 5) — Page 214
انوار العلوم جلد ۲۱۴ ترک موالات اور احکام اسلام غرض تم سے لڑنے سے ہی ہے کہ اگران کا بس چلے تو م کو مرتد کر دیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ گو کفار اپنے بدا رادہ میں تو خدا کے فضل سے ناکام رہے اور مسلمانوں پر فتح نہ پاسکے مگر اکا دُکا آدمی جو ان کے قبضہ میں آگیا ہے تو انہوں نے اپنی طرف سے اس کو مرتد کرنے کی کوشش کی ہے۔بلال رضی اللہ عنہ۔ابوجندل رضی اللہ عنہ۔اور یاسر رضی اللہ عنہ کی مثالیں اس امر پر کافی سے زیادہ روشنی ڈالتی ہیں لیکن انگریزوں کے خلاف ان میں سے ایک بات بھی ثابت نہیں ہوتی۔وہ مذہب اسلام سے پھرانے کے لئے جنگ نہیں کرتے اگر کرتے ہیں تو دنیوی اغراض کے لئے کرتے ہیں ہم لوگ مدت دراز سے ان کے زیر حکومت زندگی بسر کر رہے ہیں کیا کوئی شخص ثابت کر سکتا ہے کہ ایک شخص کو بھی انہوں نے جبراً مسیحی بنایا ہو ؟ اور کیا عراق اور شام کے لوگوں کو انہوں نے جبراً مسیحی بنانے کی کوشش کی ہے ؟ پھر کیا انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو یا عراق یا شام کے مسلمانوں کو مجبور کیا ہے کہ یا سیمی ہو جاؤ یا ان علاقوں سے نکل جاؤ ؟ ہم تو خود ان کے اپنے ممالک میں جاکر تبلیغ اسلام کرتے ہیں اور ان میں سے بعض سعید رو میں اسلام کو قبول بھی کرتی ہیں لیکن کبھی وہ اس امر سے نہیں نہیں روکتے کہ کیوں مسیحیوں کو ہم مسلمان بناتے ہیں کجا یہ کہ مسلمانوں کو جبراً عیسائی بنا دیں۔پھر جب کوئی شرط بھی مسیحیوں میں ایسی نہیں پائی جاتی کہ جس کی وجہ سے ان سے ترک موالات فرض ہو تو پھر ہندوؤں سے موالات اور انگریزوں سے ترک موالات کرنے کا فتویٰ دینے کا باعث کیا ہے ؟ ان آیات سے تو صاف یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے بھی اور سکھوں سے بھی اور انگریزوں سے بھی موالات کرنی چاہئے اور ہمدردی سے اور انصاف سے پیش آنا چاہئے اور صرف ان لوگوں سے موالات ترک کرنی چاہئے جو یا تو اسلام سے پھرانے کے لئے جنگ کریں یا اسلام سے نہ پھرنے والوں کو ملک سے نکال دین یا اس کام میں دوسروں کی مدد کریں۔مذہبی دست اندازی کیا ہے شائد بعض لوگ کہہ دیں کہ انگریزوں نے بعض ایسے لوگوں کو جلا وطن کیا ہے جو مثلاً خلافت کی تائید کرتے تھے اور ایسے ہی کاموں میں حصہ لیتے تھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مذہبی دست اندازی سے صرف خالص مذہبی مسائل میں دخل اندازی مراد ہے نہ کہ ان مسائل میں دخل اندازی مراد ہے جن کے ساتھ سیاست بھی شامل ہو۔مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میرا یہ مذہب ہے کہ فلاں قوم کو قتل کر دینا چاہئے تو اس کے اس خیال کو مذہبی سوال نہیں سمجھا جاوے گا بلکہ چونکہ قتل ایک ایسا فعل ہے جس کا دوسرے شخص سے بھی تعلق ہے اس لئے اس شخص کو اجازت نہ دی جاوے گی کہ اس کو قتل کر دے اگر وہ دوسرا شخص حاکم