انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 213

انوار العلوم جلد ۵ ۲۱۳ ترک موالات اور احکام اسلام ذکر ہے سورہ حج میں اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں فرماتا ہے ۔ اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُهُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ (الحج : ۴۰-۲۱) یعنی اجازت دی گئی ہے جنگ کرنے کی ان لوگوں کو کہ جن سے جنگ کی جاتی ہے یہ سبب اس کے کہ ان پر ظلم کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مدد پر قادر ہے ۔ ایہ وہ لوگ ہیں ، جن کو ان کے گھروں سے اس لئے نکالا گیا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے یعنی وہ مشرک نہ تھے اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ سورہ ممتحنہ کی آیت میں وَ اخْرَ جو کہ کی آیت سے یہی مراد ہے کہ مذہبی فرض کے طور پر اسی قوم سے ترک موالات فرض ہوتی ہے جنہوں نے کسی قوم کو کسی خاص مذہب کے قبول کرنے کی وجہ سے ملک بدر کر دیا ہو۔ غرض سورہ ممتحنہ کی یہ آیت جس کو ہندوؤں کے ساتھ دوستی رکھنے کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے اس سے صرف ہندوؤں ہی سے موالات رکھنے کی اجازت نہیں نکلتی بلکہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ترک موالات صرف اور صرف ان لوگوں سے کی جانی چاہئے جو مسلمانوں سے اسلام لانے کے الزام میں لڑتے ہوں اور اسلام اور اسلام سے پھرانے کے لئے کے لئے جنگ کرتے ہوں یا ان کو اس لئے گھروں سے نکالتے ہوں کہ وہ کیوں ایک خدا کی پرستش کرتے اور پیچھے دین کو قبول کرتے ہیں یا اس فعل میں دوسروں کے مددگار ہوئے ہوں اور چونکہ یہ تینوں باتیں انگریزوں میں نہیں پائی جاتیں اس لئے ان سے ترک موالات درست نہیں۔ لی ؟ جنگ تھی، لیکن یہ خیال درست نہیں کیونکہ جنگ کہا جاتا ہے کہ ترکوں سے جنگ ایک یا ترکوں سے ہی جنگ کی گئی اصل میں ترکوں سے نہ تھی بلکہ اصل جنگ جرمن سے تھی ترک تو بعد میں جاکر شامل ہوتے ہیں اور جرمن مسیحی توسعه مذہب کے ہیں اسی طرح ان کے حلیف آسٹریا والے بھی پیس یہ جنگ خالص دنیوی تھی اور اسے مذہبی جنگ نہیں کہا جاسکتا نہ ابتداء کے لحاظ سے نہ انجام کے لحاظ سے ۔ مذہبی جنگ تو اسے کہتے نہ سے نہ ۔ توا۔ ہیں جس جنگ کی غرض یہ ہو کہ کسی مذہب کے ماننے والوں سے اس مذہب سے توبہ کرائی جائے اور اس وقت تک اس جنگ کو بند نہ کیا جائے جب تک مخالف اپنے مذہب سے تو بہ نہ کریں جیسا کہ قرآن کریم کفار کی جنگوں کی نسبت فرماتا ہے ۔ وَلَا بَیزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا (البقرة : ۲۱۸) یعنی کفار ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے تاکہ تم کو اپنے دین سے مرتد کر دیں اگر ان کی طاقت ہو یعنی گو تمہارا مرتد کر دیا تو ان کی طاقت سے باہر ہے مگر کفار کی