انوارالعلوم (جلد 5) — Page 208
انوار العلوم جلد ترک موالات اور احکام اسلام کوئی راہ ہے جس کے ذریعہ ہم اپنا مدعا حاصل کر سکتے ہیں ؟ جب تک اس مسئلہ کے متعلق اس طریق کو اختیار نہ کیا جاوے گا یعنی اس کے شرعی اور سیاسی پہلوؤں پر الگ الگ نظر نہ ڈالی جاوے گی کبھی صحیح نتیجہ نہ نکلے گا اور ہمیشہ اس پر گفتگو کرنے والے زیادہ سے زیادہ الجھنوں میں پڑتے چلے جاویں گے نہ موتہ اس کی صداقت کو ذہن نشین کراسکیں گے نہ مخالف اس کی غلطی کو آشکار کرسکیں گئے ہیں اس مسئلہ پر غور کرتے وقت اس امر کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے تاکہ خلط مبحث نہ ہو۔اس مسئلہ کی مشروعیت پر الگ غور کیا جاوے اور اس کی مصلحت پر علیحدہ۔چونکہ اس وقت مسلمانوں کو عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ اس وقت حکومت ہند سے ترک موالات کرنا ایک شرعی فرض ہے اور عوام الناس میں اس کی مشروعیت کے خیال سے ہی جوش پیدا ہو رہا ہے اس لئے اس مسئلہ پر کوئی تحریر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی اور نہ زیادہ فائدہ مند ہوسکتی ہے جب تک وہ اس مسئلہ کے شرعی پہلو پر کافی روشنی نہ ڈالے اور چونکہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقوام اس مسئلہ کے شرعی پہلو سے اس قدر تعلق نہیں رکھتیں جس قدر کہ اس کے عملی پہلو سے اس لئے کوئی تحریر اس وقت تک بھی مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں اس کے عملی پہلو پر بھی بحث نہ کی جاوے۔پس میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ترک موالات کے دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالوں۔لیکن علیحدہ علیحدہ تاکہ خلط مبحث نہ ہو۔اور ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ سکے کہ شریعت اس معاملہ ہر میں ہم سے کیا چاہتی ہے اور اگر شریعیت ہم سے اس معاملہ میں کچھ مطالبہ نہیں کرتی تو مصلحت وقت کسی بات کا تقاضا کرتی ہے۔اوّل میں اس مسئلہ کے شرعی پہلو کو لیتا ہوں۔ترک موالات کے معنی کسی سوال کا جواب بجھنے کے لئے پہلے سوال کا سمجھ لیناضروری ہوا ہے اس لئے ترک موالات پر غور کرنے سے پہلے اس کے معنوں کو سمجھ لینا چاہئے۔موالات کہتے ہیں دوستی کو یا کسی سے مدد لینے یا اسے مدد دینے کو۔پس ترک موالات کے معنی یہ ہوئے کہ اس سے دوستی نہ کی جائے اور نہ اس سے مدد لی جائے نہ اسے مدد دی جائے۔مولوی محمود الحسن صاحب نے اپنے فتوی میں یہی معنے لکھتے ہیں۔پس جب کہا جاتا ہے کہ انگریزی حکومت سے ترک موالات کی جائے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ انگریزی حکومت سے نہ تو تعلق محبت رکھا جائے نہ ان سے کسی قسم کی مدد لی جائے اور نہ ان کو کسی قسم کی مدد دی جائے مگر ترک موالات کے حامی اس لفظ کو اس کے پور سے معنوں میں استعمال نہیں کرتے وہ صرف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سر دست انگریزوں کے کالجوں میں تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہئے سوائے میڈیکل کالج وغیرہ علمی کا لجوں کے۔اسی طرح ان کی عدالتوں میں نقدتا نہیں لے جانے چاہئیں۔وکیلوں کو ان کی عدالت میں وکالت نہیں کرنی چاہئے ان کے دیئے ہوئے خطاب