انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 206

انوار العلوم جلد ۵ ترک موالات اور احکام اسلام کیا اب صبر کر کے بیٹھ رہنا چاہئیے ؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ امرا طے ہو چکا ہے اس لئے ہمیں صبر سے اسے اسے تسلیم کر لینا چاہئے ۔ میرے نزدیک یہ لوگ صبر کے صحیح معنوں کو نہیں سمجھتے صبرا سے نہیں کہتے کہ جو واقعہ ہو جائے اس کی اصلاح کی فکر نہ کی جاوے بلکہ بعض دفعہ ایسے امر کی جو ہو چکا ہو اصلاح ضروری ہوتی ہے اور اس کی اصلاح نہ کرنی یا اس کے لئے کوشش نہ کرنا کم ہمتی پر دلالت کرتا ہے۔ ہر کام جو ہو چکا غیر مبدل نہیں ہوتا۔ غیر مبدل وہی کام ہوتا ہے جس کی اصلاح ناممکن ہو۔ مثلاً کسی نے کسی کو گالی دی ہے یا مارا ہے تو اس فعل کو لوٹایا نہیں جا سکتا ایسے فعل کو یاد رکھنے سے اگر نقصان ہوتا ہو یا بھلانے سے فائدہ ہوتا ہو تو اچھی بات یہی ہے کہ اسے بھلا دیا جائے اور اس کا تذکرہ ہی نہ کیا جائے لیکن مثلاً اگر کسی نے کسی کی کوئی چیز چھین لی ہے جو ضائع نہیں ہو گئی بلکہ چھینے والے کے پاس موجود ہے اور اس شخص نے وہ چیز اسے دے کا بھی نہیں دی تو جائز اور صحیح ذرائع سے اس کے واپس لینے کی کوشش کرنا منع نہیں ہے اور معاہدہ ترکیہ کا مسلہ اس دوسری قسم کے امور میں سے ہے ۔ ترکوں سے جو ممالک لئے گئے ہیں وہ اب بھی موجود ہیں اور آئندہ بھی موجود رہیں گے۔ پس اس تصفیہ میں تغیر ہو جانا ناممکنات میں سے نہیں ہے اس لئے اس کے متعلق یہ کہ دنیا کرصبر کرد اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک صبر کرنے کے لئے کافی وجو ہات نہ ہوں اور یہ ثابت نہ نہ وجوہات ہو جائے کہ اس موقع پر صبر اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول کا ذریعہ ہوگا۔ ہجرت اور ترک موالات دوسری رائے یہ دی جاتی ہے کہ انگریزی علاقہ سے ہجرت کی جاوے یا ان سے ترک موالات کیا جائے میں نے اپنے رسالہ معاہدہ ترکی میں بتایا تھا کہ یہ دونوں آراء درست نہیں ہجرت کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ اول تو شرعاً یہ موقع ہجرت کا ہے ہی نہیں۔ دوم اگر خلاف شریعت ہجرت کی بھی گئی تو اس کے سامان چونکہ آپ لوگوں کے گئی پاس نہیں ہیں اس کا نقصان پہنچے گا اور دشمنوں کو ہنسی کا موقع ملے گا۔ پھر افغانستان میں گنجائش بھی نہیں ہو گی آخری ہوا افغانستان میں مہاجرین کی گنجائش نہ نکلی ہزاروں واپس آئے ہزاروں مر گئے جو باقی ہیں ان کی حالت بھی بُری ہے اپنے گزارہ کے لئے یہاں سے روپیہ طلب کر رہے ہیں۔ ترک موالات کے متعلق تفصیلی بحث دوسری صورت ترک موالات کی بتائی جاتی ہے اس کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ یہ نا قابل عمل اور موجب فساد ہے مگر چونکہ اب اس مسئلہ نے بہت اہمیت اختیار کرلی ہے۔ اس لئے دوبارہ میں اس کے متعلق تفصیلی طور پر اپنی تحقیق بیان کرنی چاہتا ہوں۔