انوارالعلوم (جلد 5) — Page 204
انوار العلوم جلد ۵ ۲۰۴ ترک موالات اور احکام اسلام کو صحیح راستہ کی طرف ہدایت کروں ۔ مجھے گورنمنٹ سے کیا فائدہ ہے کہ میں اس کی تائید کروں یا گورنٹ کا ہمارے خاندان سے تحریری وعدہ تھا کہ و تھا کہ وہ اسے کسی وقت پھر اس کی پرانی شوکت پر قائم کرنے کی صورت کرے گی لیکن ہم تو اس کے ان پرانے وعدوں سے بھی فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتے اور اسے فائدہ وہ وعدہ یاد دلانے میں بھی اپنی ہتک خیال کرتے ہیں کجا یہ کہ اس سے اور کچھ مانگیں یا اگر وہ دے تو اسے قبول کریں۔ پس میری نصیحت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے اور اپنے ملک کے نیک نام کے قائم رکھنے کے لئے ہے نہ کسی اور غرض سے ۔ غرض اسے بھائیو ! حق یہی ہے کہ جلیا نوالہ باغ کا جلسہ کرنے والوں نے قانون شکنی کی اور ان کے غلطی کا عملی طور پر اعتراف کرلینے پر بھی گولیاں چلاتے جانے والے نے ظلم سے کام لیا ۔ مگر جب حکومت نے اس غلطی کا اعتراف کر لیا اور آئندہ کے لئے وعدہ کر لیا کہ ایسا نہ ہوگا تو پھر ہمارا اس تلخ یا کوتازہ رکھنا مذہباً اور اخلاقاً ایک مذموم فعل ہے اب ہمیں اس واقعہ کو بھلا کر محنت اور کوشش سے امن کو قائم کرنا چاہئے ۔ یہی اسلام کا مدعا ہے اور اسی کی تعلیم ہر ایک مذہب اپنے اپنے رنگ میں دیتا ہے ۔ ترکی کے متعلق اتحادیوں کا فیصلہ شور شورش پنجاب کے متعلق تو میں اس وقت اسی قدر لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے اس وقت ایک ایسے امرکے متعلق کچھ لکھنا ہے جو اس واقعہ سے بھی زیادہ لوگوں کے اندر بے اطمینانی پیدا کر رہا ہے میری مراد اس سے وہ فیصلہ ہے جو اتحادی دُوں نے ترکی حکومت کے متعلق کیا ہے میں لکھ چکا ہوں کہ ترکی حکومت کے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرتے وقت اتحادی ڈول نے اس دور اندیشی سے کام نہیں لیا جس کا یہ امرمستحق تھا وہ کہتے ہیں کہ ہم دور اندیشی کی وجہ سے مجبور تھے کہ یہی فیصلہ کرتے جو ہم نے کیا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فیصلہ بزبان حال پکار رہا ہے کہ اس کے کرتے وقت دور اندیشی اتحادی نوابوں کے قریب بھی نہیں پھٹکی ۔ وہ بیٹھے تو اس غرض سے تھے کہ آئندہ کے لئے فسادات کا امکان جاتا رہے مگر کام ان سے وہ ہوا ہے جس نے کروڑوں آدمیوں کے دلوں میں آگ لگا دی ہے اور جس کی موجودگی میں وہ اس امن کے امید وار نہیں ہو سکتے جس کے وہ خواہش مند تھے ۔ کوئی شخص آگ بھڑ کا کر ٹھنڈک نہیں پیدا کر سکتا نہ قومی اور مذہبی عناد کو انتھار کر صلح کی امید رکھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اور کم سے کم میرا یہ یقین ہے کہ گو نذہبی تعقیب اس معاہدہ کو جو ترکوں سے کیا گیا ہے باعث نہیں مگر مذہبی تعصب کا اثر اس معاہدہ پر ضرور ہے اور یہی سبب ہے کہ اس کی شرائط ان اصول کے خلاف ہیں جو اتحادیوں نے خود ہی مقرر کئے تھے جیسا کہ میں اپنے مضمون بنام " معاہدہ ترکیہ