انوارالعلوم (جلد 5) — Page 202
انوار العلوم جلد ۵ ۲۰۲ ترک موالات اور احکام اسلام جنرل ڈائر کے حامیوں اور ان کے مخالفین کی غلطی یہ یہ ہے کہ بعض انگریز تعقیب سچ کی وجہ سے جنرل ڈائر کی مدد کے لئے یا چندہ جمع کر رہے ہیں لیکن اسے عزیزو! یہ غلطی آپ سے بھی ہوئی ہے کہ جلیانوالہ باغ کے مقتولوں یہ غلطی سے بھی ہوئی ہے کہ کے کی یادگار کو آپ نے بھی تازہ رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ بے شک یہ ان لوگوں پر ظلم ہوا کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے جلسہ کو منتشر کرنا چاہا اور اس جگہ سے جانے کے لئے تیار ہو گئے ، ان پر گولیاں برسائی جاتی رہیں اور دوسروں پر رعب ڈالنے کے لئے وہ قربان کئے گئے ۔ مگر اسے عزیز و ا کیا اس میں کوئی شک ہے کہ گو ان کی یہ سزا نہ تھی جو دی گئی مگر کیا وہ حکومت کے قوانین کو توڑنے والے نہ تھے جس طرح جنرل ڈائٹر کی یاد کو تازہ رکھ کر بعض انگریز غلطی کر رہے ہیں اور اس کے فعل کو پسند کر کے حکم کے مؤید بن رہے ہیں اور اپنی قوم پر ایک دھبہ لگا رہے ہیں ۔ اسی طرح کیا وہ لوگ غلطی نہیں حکمر رہے جنہوں نے جلیانوالہ باغ کے مقتولوں کے لئے چندہ جمع کیا اور کیا وہ یادگار جو اس روپیہ سے قائم کی جائے گی ہمیشہ کے لئے ہندوستان کی آئندہ نسلوں کو اس امر کی طرف متوجہ نہ کرے گی کہ حکومت کے قوانین کو توڑنے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا ؟ اور کیا آئندہ جب ہندوستان کو حکومت خود اختیاری ملے گی تو ہم میں سے بعض کا یہ فعل اس حکومت کے انتظام میں خلل ڈالنے والا نہ ہوگا ؟ بے شک بعض کہیں گے کہ ظالمانہ حکم کا مقابلہ کرنا چاہتے۔ لیکن یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ ایک ہی حکم کو ایک شخص ظالمانہ اور دوسرا غیر ظالمانہ قرار دیتا ہے اور یہ بات لوگوں پر چھوڑ دیا کہ و ظالمانہ یا غیر ظالمانہ احکام میں آپ ہی امتیاز کر لیا کریں اور جو حکم ان کو ظالمانہ نظر آ وے اس کی پابندی نہ کیا کریں ایسا خطرناک قدم ہے کہ اس کے اُٹھاتے ہی انسان امن و صلح کے میدان سے نکل کر فساد و شورش کے علاقہ میں داخل ہو جاتا ہے ظالمانہ فعل وہی ہے جس کا اختیارہ قانون کسی کو نہ دیتا ہو اور اگر قانون ہی کسی فعل کو جائز قرار دیتا ہے تو خواہ وہ ظالمان نظر آد سے اس کا توڑ نا خلاف اصل ہے ۔ ظلم برداشت کر سکنے کی طاقت خود ایک تربیت ہے جو مدارج عالیہ کے حصول کے لئے ضروری ہے ۔ اور اگر کوئی شخص ایسے قانون کی پابندی نہیں کر سکتا تو اس کا فرض ہے کہ ملک کا امن تباہ کرنے کی بجائے خود اس ملک کو چھوڑ کر چلا جائے اور دوسروں کے امن کو برباد نہ کرے ۔ پ پس اسے برادران با یہ دونوں فعل نا درست ہیں۔ جنہوں نے جنرل ڈائر کی حمایت کی یا زمین پر رینگنے کے حکم کو جائز قرار دیا یا جنہوں نے جنرل ڈائر کی مد کے لئے چندہ جمع کیا انہوں نے ظلم کی حمایت کی اور عدل و انصاف کو قومی تعصب پر قربان کر دیا بلکہ اپنے قومی فوائد کو دھڑہ بندی پر قربان کر دیا ۔ اسی طرح