انوارالعلوم (جلد 5) — Page 185
انوار العلوم جلد ۵ ۱۸۵ معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ لئے کہ آپ لوگوں کو خود اسلام کی خوبیوں پر یقین نہیں اور اس کی قوت جذب کا تجربہ نہیں ۔ اگر نا ایسا ہے تو یورپ پر اسلام کی دشمنی کا کیا شکوہ ہے جب خود مسلمانوں کو اس کی خوبیوں پر یقین نہ ہو تو دشمن اس کے حسن کا دلدادہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ یقین مانو کہ اسلام اپنے اندر بہت بڑی قوتِ جاذبہ رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ فیصلہ بھی کر چکا ہے کہ اسے دنیا میں پھیلا دے اور اس نے اس کے لئے اپنے مامور کو بھیج بھی دیا ہے ۔ اب مایوسی کا وقت نہیں ۔ کیونکہ مایوسی گو ہمیشہ ہی بری ہوتی ہے مگر اُمید کا سورج جب چڑھ آتا ہے تو تب اس سے زیادہ مگر وہ کوئی چیز نہیں ہوتی پس اُٹھو اور ا اپنے جوشوں کے پانی کو یونہی زمین پر بنے دینے کی بجائے تبلیغ اسلام کی نہر کے اندر محدود کرد و تا ان کا کوئی فائدہ ہو اور ان سے کام لیا جاسکے ۔ پانی جب سطح زمین پر بہہ جاتا ہے تو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ لیکن وہی پانی جب نہر کی شکل میں بند کر دیا جاتا ہے تو اس سے ہزاروں ایکٹر زمین سیراب کی جاسکتی ہے اور آبشاریں بنا کر اس سے بجلی نکالی جا سکتی ہے ۔ پس اسے احباب کرام ! ملک کے جوش کو بیہودہ طور پر ضائع نہ ہونے دو ۔ بلکہ اس سے اسلام کی ترقی کے لئے کام لو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کی نصرت کی طرح نازل ہوتی اور اسلام کے جلال کو دنیا پر ظاہر کرتی ہے ۔ میری جماعت اس کام کو پہلے سے کر رہی ہے اور اس کام کے لئے آدمی مہیا کر سکتی ہے ۔ پس اگر آپ لوگوں میں سے کوئی اسلام کے خیر خواہ ہوں تو اس کام کے لئے بڑھیں کہ اس سے زیادہ متبرک کام اس وقت کوئی نہیں۔ اور یہی سچی اسلامی ہمدردی ہے ۔ ورنہ جلسے کرنا اور ریزولیوشن پاس کرنا کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا ۔ اسلام خدا کا بھیجا ہوا دین ہے اور قرآن اس کے منہ کا کلام ہے ۔ پس یہ نہیں ہو سکتا ہے که کمزور انسان اس کو مٹا سکے ۔ خصوصاً وہ انسان جو ایک کمزور انسان کو خدا مان کر اس کے آگے سجدہ کرتا ہے۔ در حقیقت یہ سب و بال مسلمانوں کے اسلام کو پرے پھینک دینے کا ہے۔ اور افسوس کا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ اب بھی وہ اس کی طرف متوجہ نظر نہیں آتے۔ کاش اب بھی مسلمان اس طرف متوجہ ہوں اور ان انعامات میں شریک ہو جاویں جو خدا تعالیٰ خادمان اسلام اسلام کو کو دبا دینا چاہتا ہے در حقیقت وہ اسی امر کا منتظر ہے کہ کس قدر مسلمان اس خدمت میں شامل ہو کر اس کی رضا کو حاصل کرتے ہیں ۔ ورنہ اسلام کی ترقی کا وقت آچکا ہے اور خواہ ساری دنیا مل کر اسلام کو مٹانا چاہیے نہیں مٹا سکتی ۔ یہ آخری صدمہ واقع میں آخری صدمہ ہے ۔ اب اسلام کے بڑھنے کے دن شروع ہوتے ہیں ۔ اور اب ہم دیکھیں گے کہ مسیحی کیونکر اس کی بڑھتی ہوئی رو کو روکتے ہیں۔ خدا کی غیرت اس