انوارالعلوم (جلد 5) — Page 184
انوار العلوم جلد ۵ الوله معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ که خدا تعالیٰ نے اسلام کی دوستی کی بجائے اس سے دشمنی شروع کر دی ہے ۔ وہ خدا جو پہلے اسلام کے لئے اپنے قہری نشان ظاہر کیا کرتا تھا ۔ اب کیوں اس کے لئے اپنی قدرت کے کرشمے ظاہر نہیں کرتا ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم قرآن کو بھلا دیا ہے اس لئے ان پر یہ آفت آئی ہے انہوں نے خود حضرت مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دے رکھی ہے ۔ اس لئے خدا تعالٰی نے بھی سیمیوں کو ان پر فضیلت دے دی ۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ بجائے اپنے اوقات کو بے فائدہ ضائع کرنے کے خدا تعالیٰ سے صلح کرو اور اس کے فضل کی تلاش کرو اور پھر یاد رکھوکہ جیسا کہ میں نے ستمبر گذشتہ کے اجتماع کے موقع پر تحریر کیا تھا اس وقت اسلام کی ترقی کے لئے ایک ہی راہ گھلی ہے کہ ہم تبلیغ اسلام کے لئے کھڑے ہو جاویں۔ یورپ کو ترکوں سے نفرت جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ان کی کسی بد انتظامی کی وجہ سے نہیں بلکہ در حقیقت اس کی وجہ یورپ کا یہ خیال ہے کہ اسلام تہذیب کا دشمن ہے اور وہ اس کو اپنی دنیا کا دشمن سمجھ کر جو ان کو بہت عزیز ہے مٹانا چاہتے ہیں۔ لیں جب تک یورپ کے دل سے بلکہ تمام مسیحی دنیا کے دل سے یہ خیال دور نہ کیا جاوے گا اس وقت تک ہرگز مسلمانوں کے مصائب دور نہیں ہو سکتے ۔ در حقیقت یہ ذلت جو اس وقت مسلمانوں کو پہنچ رہی ہے اس قدر زمینی نہیں جس قدر کہ آسمانی ہے قرآن کریم کے صریح احکام کو پس پشت ڈال کر مسلمان اس ذلت کو پہنچے ہیں اور اب وہ اسی صورت میں اس سے نکل سکتے ہیں کہ جب پچھلی غفلتوں کا کفارہ دیں اور اپنے نفسوں کی اصلاح کر کے اس امانت کو پہنچائیں جو سب دنیا کو پہنچانے کے لئے ان کے سپرد کی گئی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کا فرض مقرر کیا تھا کہ وہ اسلام کو دنیا کے سب کناروں تک پہنچاویں لیکن انہوں نے اس فرض کو اس طرح پیس پشت ڈال دیا کہ گویا ایک تنکے کے برابر بھی ان کو اس کی پروا نہیں تب خدا تعالیٰ نے ان کو بتا دیا کہ اس فرض کو پورا کرنا خود ان کے لئے مفید تھا نہ کہ خدا تعالیٰ کے لئے ۔ اگر اسلام کو کوئی بھی نہ مانے تب بھی اللہ تعالی کی خدائی میں کچھ فرق نہیں آتا ۔ اگر کچھ فرق آتا ہے تو مسلم کے ایمان میں اور اس کے امن میں پس اب بھی ان مصائب سے بچنے کا یہی علاج ہے کہ دین اسلام کے غلبہ کے لئے مسلمان کھڑے ہو جاویں، حکومتیں اسلام سے پہلے نہیں آئیں بلکہ بعد میں آئی ہیں ۔ اب اگر اسلام قائم ہو جاوے حکومتیں خود بخود چلی آئیں گی۔ خوب یاد رکھو کہ مذہبی اتحاد سب سے مضبوط اتحاد ہے۔ جب دنیا کی تو میں اسلام کو قبول کر لیں گی تو کیا چیز ہے جو ان کو اسلام کے آثار کے مٹانے پر شامل کرے گی ۔ وہ تو اسلامی آثار کے قیام کے لئے خود بے قرار ہوں گی ۔ پس کیوں اس جماعت کو جو اسلام کو مٹانے کے درپے ہے اسلام کے حلقہ بگوشوں میں داخل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ کیا اس "