انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 178

انوار العلوم جلد ۵ 14A معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ جہاں کی آبادی قریب قریب ساری مسلمان ہے حالانکہ یہ بات ثابت ہے کہ آرمینین سیحیوں نے نہایت بے دردی سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور خود وزیر انگلستان اس بات کا انکار نہیں کر سکے کہ آرمینین مسیحیوں نے بھی مسلمانوں پر سخت سے سخت مظالم کئے ہیں۔یہیں اگر ترکوں کو اس جرم میں اس علاقہ کی حکومت بے دخل کیا جاتا ہے کہ وہ کر دوں کو آرمین مسیحیوں پر ظلم کرنے سے کیوں نہیں روک سکے۔تو آرمینین مسیحیوں کو جو خود مسلمانوں کو قتل کرنے کے جرم کے مرتکب میں مسلمانوں پر کیوں حکومت دے دی گئی ہے اور اگر کوئی ایسے قواعد بنا دیئے گئے ہیں کہ جن کے ماتحت آرمینین مسیحی مسلمانوں پر ظلم نہیں کر سکیں گے تو کیوں ان ہی قواعد کے ماتحت آرمینیا کو ترکوں کے ماتحت نہیں رکھا گیا تا سلمان مسیحیوں پر ظلم نہ کر سکیں۔اسی طرح مرنا کو یونان کے حوالے کرنا بھی خلاف انصاف ہے کیونکہ کسی ملک کے صرف ایک شہر میں کسی قوم کی کثرت آبادی اسے اس شہر کی حکومت کا حق دار نہیں بنادیتی اور یہ اصول کبھی بھی سیاست میں تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کا نتیجہ سوائے فساد کے کچھ نہیں نکلے گا اور یقیناً چند سال بعد یونانی اس علاقہ میں فتنہ اندازی کرکے اور علاقہ بڑھانے کی فکر کریں گے۔تھریں جو ترکوں سے لے کر یونان کو دیا گیا ہے اس کا سبب بھی معلوم نہیں ہوتا۔خود وزیراعظم مسٹر لانڈ جارج اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ وہاں کی آبادی کا کثیر حصہ ترک ہے پھر اس ملک کو یونان کے سپرد کر دنیا کس طرح جائز ہو سکتا ہے اور اگر مسٹر لینڈ جارج کے بعد کے بیان کو بھی کہ وہاں کی اکثر آبادی غیر ترک ہے مان لیا جاوے تو بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ اس علاقہ کا نہایت کثیر حصہ مسلمان ہے پیں اگر اس وجہ سے کہ وہاں کی اکثر آبادی ترک نہیں اس علاقہ کو ترکوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا تھا تو یونان کو تو کسی طرح اس علاقہ پر حق حکومت نہ تھا۔اس صورت میں یہاں آزاد حکومت قائم کر دی جاتی یونانیوں کو اس علاقہ کے سپرد کر دینے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ حسب عادت تھوڑے ہی عرصہ میں خفیہ اور ظاہر تدابیر سے وہاں کے لوگوں کو یا سیمی ہونے پر مجبور کریں گے یا ان پر سخت ظلم کر کے ان کو ان علاقوں غرض میرے نزدیک اس معاہدہ کی گئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہوا ہے اس لئے جس قدر جلد یورپ اس میں تبدیلی کرے اسی قدر یہ بات اس کی شہرت اور اس کے اچھے نام کے قیام کا موجب ہوگی لیکن سوال ہے کہ اگر اتحادی حکومتیں ان شرائط کو بدلنے سے انکار کریں تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے اور میرے نزدیک یہی اہم سوال ہے کیونکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اتحادی ان شرائط کو نرم نہیں کریں گے۔SAMARINA ✓ عله ATHERAS