انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 177

انوار العلوم جلد ۵ 146 معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں سب سے پہلا سوال شرائط صلح کے متعلق یہ ہے کہ آیا یہ درست ہیں اور مطابق انصاف ہیں۔اس سوالی کے متعلق میرے نزدیک اب ہم کو زیادہ غور و فکر نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ اس سوال کا حل ہمیں کچھ نفع نہیں دے سکتا مگر پھر بھی آئندہ نسلوں کو اپنے خیالات سے آگاہ کرنے کے لئے اور ان شرائط کے تیار کرنے والوں کو اپنی رائے سے واقف کرنے کے لئے میں اپنی رائے ان مختصر الفاظ میں ظاہر کر دیتا ہے کہ ترکوں کے متعلق شرائط صلح کا فیصلہ کرتے وقت ان اصول کی پابندی نہیں کی گئی جن کی پابندی یورپ کے مرتبہ انصاف کے لئے ضروری قرار دے چکے ہیں۔عراق کی آبادی کو ایسے طور پر اپنی رائے کے اظہار کا موقع نہیں دیا گیا جیسا کہ جرمن کے بعض حصوں کو۔ان سے باقاعدہ طور پر دریافت نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے لئے کسی حکومت یا کس طریق حکومت کو پسند کرتے ہیں۔شام کی آبادی کو باوجود اس کے صاف صاف کہہ دینے کے کہ وہ آزاد رہنا چاہتی ہے فرانس کے زیر اقتدار کر دیا گیا۔فلسطین کو جس کی آبادی کا بڑا حصہ مسلمان ہے ایک بہو دی نو آبادی قرار دے دیا گیا حالانکہ یہود کی آبادی اس علاقہ میں پا کے قریب ہے اور یہ آبادی بھی جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے ۱۸۷۸ء سے ہوئی ہے اور زیادہ تر ان پناہ گیروں کی ہے جنہوں نے ان ممالک سے آکر یہاں پناہ لی ہے جن میں یہودیوں پر ظلم کرنا سیاست کا ایک بڑا جزو قرار دیا گیا ہے" (یعنی روس و غیره) (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا ) CONSISTING PRINCIPALLY OF REFUGEES FROM COUNTERIES WHERE ANTI-SEMITISM IS AN IMPORTANT ELEMENT IN POLITICS۔پس ایسے علاقہ سے ترکوں کو دست بردار کرانا اور سہود کے سپرد کر دینا جس میں کثیر حصہ آبادی مسلمان ہے اور جو سیور کے لئے ایک یہی جائے پناہ تھی کیا اس مجرم کے سبب سے ہے کہ انہوں نے کیوں یہود کو اس وقت پناہ دی جب کہ مسیحی حکومتیں ان کو اپنے گھروں اور اپنی جائیدادوں۔بے دخل کر رہی تھیں ؟ یہی حال لبنان کا ہے۔اس کو فرانس کے زیر اقتدار دنیا بالکل کوئی سبب نہیں رکھتا۔اور آرمینیا کا آزاد کرنا بھی بے سبب ہے کیونکہ آرمینیا کا جائے وقوع ایسے علاقہ میں ہے جس کے چاروں طرف ترک آباد ہیں اور ان کی الگ حکومت بنانے سے یہ مطلب ہے کہ ترک قوم آپس میں اتحاد نہ کر سکے اور روسی ترکستان کے لوگ کسی وقت بھی ایشیائی کو چک کے ترکوں سے مل نہ سکیں پھر آرمینیا کو جو بہت سے علاقے دیئے گئے ہیں۔ان میں کثیر حصہ آبادی کا مسلمان ہیں اور ایسی بعض ولایات کے دینے کی تجویز ہے