انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 175

انوار العلوم جلد ۵ ۱۷۵ معاہدہ ترکی اور سلمانوں کا آئندہ رویہ تھا یہ اعلان نہ کرنا پڑتا کہ خلافت صرف قریش کے لئے مخصوص ہے اور وہ با وجود مخالفت کے ترکوں کی ہمدردی میں اپنی آواز بلند کر سکتے تھے کیونکہ پچھلے دنوں سے یورپ کی بعض حکومتوں سے ان کو بعض شکایات پیدا ہوگئی ہیں اور وہ ایک حد تک ترکوں سے صلح رکھنے پر تباہ ہیں۔ اگر میرا مشورہ قبول ر لیا جاتا تو عرب کے وہابی فرقہ کوبھی گھلے طور پر اس مسلہ میں دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ شریک ہونے میں کوئی اعتراض نہ ہوتا ۔ اور اگر میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو یورپ کے لوگوں کو اس بات پر مہنسی اڑانے کا موقع نہ ملنا کہ مسلمان اپنے خلیفہ کی حفاظت کی اپیل عیسائی حکومتوں سے کرتے ہیں ۔ اور اگر اس کام کو تکمیل پر پہنچانے کے متعلق جو بات میں نے لکھی تھی اس پر عمل کیا جاتا تو یقیناً شرائط صلح موجودہ شرائط سے مختلف ہوتیں۔ وفود کا بھیجا جانا اس قدر معرض التوا میں ڈالا گیا کہ عمل کا وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔ امریکہ کی طرف کوئی وفد نہیں بھیجا گیا ۔ عراق ، شام ، عرب اور قسطنطنیہ کی طرف وند بھیجے جانے ضروری تھے مگر اس کا کچھ خیال نہیں کیا گیا ۔ فرانس اور اٹلی کی طرف مستقل وندوں کی ضرورت تھی مگر اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی ۔ جاپان بھی توجہ کا مستحق تھا اسے بھی نظر انداز کیا گیا۔ انگلستان کی طرف وفد گیا اور وہ بھی آخری وقت میں ۔ ساری کوشش ہندوستان کی گورنمنٹ کو برا بھلا کہتے ہیں یا ان لوگوں کو گالیاں دینے میں صرف کر دی گئی جو گو ترکوں سے ہر طرح ہمدردی رکھتے تھے مگر سلطان المعظم کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے تھے۔ مگر کیا گالیاں دینے سے کام ہوتے ہیں ؟ کام کام کرنے سے ہوتے ہیں ۔ نے یہ اسے احباب کرام ! آپ غور فرمادیں کہ اسلام کو اس وقت کسی چیز نے نقصان پہنچایا ہے ۔ اسلام کو نقصان پہنچایا ہے مسلمانوں کی غیر متقیانہ حالت نے ، بزدلی نے ، بد اخلاقی نے ، کم ہمتی نے منافقت یہ چیزیں ہیں کہ ں کہ جن کے دور کرنے سے اسلام پھر ترقی کر سکتا ہے ۔ مگر اس تکلیف کے ایام میں ان باتوں کی طرف کسی قدر توجہ کی گئی ہے ۔ آج مسلمان اس سے بہت زیادہ تعداد میں ہیں جس قدر کہ آج سے پانچ سو سال پہلے تھے۔ مگر وہ اس وقت فاتح تھے آج مفتوح ہیں ۔ کیوں ؟ صرف اس لئے کہ اس وقت ان میں مذکورہ بالا باتیں نہ تھیں مگر آج ہیں پھر ان باتوں کے ترک کرنے اور اخلاق حسنہ کے حصول کے لئے کیا کوشش کی گئی ہے۔ کیا اس مصیبت اور تکلیف کے زمانہ میں انابت الی اللہ سے کام لیا گیا ہے میں دیکھتا ہوں کہ ایسے لوگوں نے جو شہرت اور عزت کے دلدادہ ہیں مسلمانوں کے اخلاق اور بھی بگاڑ دئے ہیں۔ اور بجائے ان میں خشیتہ اللہ پیدا کرنے کے ان کو اور بھی زیادہ شوخ بنا دیا ہے ۔ آج چاروں طرف