انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 154

انوار العلوم جلد ۵ اوله فرائض مستورات کرتے تھے۔ محمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کے باپ دادا کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے ۔ آپ نے گھر سے نکال کر ایمان جیسی نعمت عطاء کی اس لئے آپ سے بڑھ کرکسی کی کیا وقعت ہو سکتی ہے ۔ لیکن افسوس کہ لوگ آپ کو چھوڑ کر باپ دادا کی فضول رسموں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور چونکہ یہ باتیں زیادہ تر عورتوں میں پائی جاتی ہیں اس لئے ان کی حالت بہت ہی قابل افسوس ہے۔ ست بہت ہی قابل اسوس ایک صحابی عورت کا نمونہ میں مثال کے طور پر بتاتا ہوں کہ وہ عورتیں جو سچے دل سے رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم رامین رکھتی تھیں ان کی کیا حالت تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمنوں کے تکلیفیں پہنچانے پر مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آگئے تو مکہ والوں نے وہاں بھی آپ کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہاں بھی لڑائی کرنے کے لئے آگئے ۔ مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر ایک جگہ تھی جہاں لڑائی شروع ہوئی ۔ اگر چہ کا فر بہت زیادہ تھے اور ان کا مقابلہ میں مسلمان بہت تھوڑے تھے لیکن مسلمانوں کو فتح ہوئی ۔ جب فتح ہو گئی تو چند لوگ جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ کھڑے رہنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا خواہ کچھ ہو تم اس جگہ سے نہ ہلنا انہوں نے کہا کہ ہمیں لڑائی کے لئے یہاں کھڑا کیا گیا تھا جب ہماری فتح ہوگئی ہے تو پھر ہمیں یہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے سردار نے کہا خواہ کچھ ہو چونکہ ہمیں کھڑے رہنے کا حکم ہے اس لئے یہاں سے نہیں جانا چاہئے ۔ لیکن دوسروں نے کہا ہمارا کھڑا ہونا لڑائی کے لئے تھا اب جبکہ دشمن بھاگ گیا تو پھر کھڑے رہنے کی کیا ضرورت ہے ۔ یہ کہہ کر جب وہ وہاں سے ہٹ گئے تو کافروں نے جو بھاگے جا رہے تھے دوبارہ یک لخت حملہ کر دیا اور ایسے زور سے حملہ کیا کہ مسلمانوں میں جو دشمن کی طرف سے مطمئن ہو چکے تھے ابتری پھیل گئی ۔ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے اور آپ کے دو دانت شہید ہو گئے اور مشہور یہ ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں یہ سن کر مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ حتی کہ فردا غم کی وجہ سے حضرت عمر جیسے بہادر انسان سر نیچے کر کے بیٹھ گئے ۔ ایک صحابی ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا کیا ہوا ۔ انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ۔ یہ سن کر اس صحابیہ نے کہا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ ؟ چلو جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہیں وہیں ہم بھی جائیں۔ یہ کہہ کر وہ دشمن پر حملہ آور ہوا اور اس قدر سختی سے لڑا کہ جب اس کی دیکھی گئی تو معلوم ہوا کہ اس پر ستر زخم لگے ہوئے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ تھے۔ اور کیوں محفوظ نہ ہوتے جب کہ خدا تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا کہ کوئی تمہیں مار نہیں سکتا ۔ (المائدة : ۶۸) آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ جو صحابی آپ کے ساتھ تھے انہیں تو آپ کے لاش عله سیرت ابن ، جلد ۲ صفحه ۸۵ vh