انوارالعلوم (جلد 5) — Page 147
انوار العلوم جلد ۵ ۱۴۷ فرائض مستورات فرائض مستورات من یہ تقریر حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۳ را پریل شاہ کو بمقام سیالکوٹ مستورات میں پنجابی زبان میں فرمائی تھی جس کو ایڈیٹر صاحب الفضل نے اُردو میں لکھا ، وعظ عمل کرنے کیلئے سنو ان چند دنوں میں مجھے عورتوں کی طرف سے بہت سے رقعے ملے ہیں جن میں وہ لکھتی ہیں کہ ہمیں بھی کچھ سنایا جائے۔اگرچہ یہ جوش قابل تعریف ہے لیکن خالی جوش اس وقت تک کام نہیں دیتا جب تک انسان جو کے اس پر عمل نہ کرے۔دیکھو اگر ایک شخص بھوکا ہو اور بھوک سے اس کی جان نکل رہی ہو اس کو کہو کہ کھانا کھا لو۔کھانا کھا لو لیکن کھانا دیا نہ جائے تو اس سے اس کا پیٹ نہیں بھر جائیگا ا اسی طرح وہ عورتیں جو دین کی باتیں سنتی ہیں اوران پر عمل نہیں کرتیں ان کو بھی کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ان عورتوں کی نسبت جن کو دین کی باتیں سننے کا موقع نہیں ملتا ان کے لئے زیادہ خوف اور ڈر کا مقام ہے کیونکہ جو نہیں سنتیں وہ معذور سمجھی جاسکتی ہیں لیکن جو سنتی ہیں اور پھر ان پر عمل نہیں کرتیں وہ زیادہ مجرم اور گہنگار ہیں۔عام طور پر عورتیں وعظ کو ایک تماشا سمجھتی ہیں جس طرح بچے کوئی تماشا دیکھتے ہیں اور