انوارالعلوم (جلد 5) — Page 131
انوار العلوم جلد ۵ ۱۳۱۰ خاتم النبین کی شان کا اظہار نہیں کہ انسان کے تین سر بنا دیتا ؟ قادر ہے مگر اس نے بنائے تو نہیں ۔ پس خدا تعالیٰ کا قادر ہونا اور بات ہے اور کوئی کام کرنا الگ بات ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت میشیح کو زندہ آسمان پر نہیں اُٹھایا اس لئے ہم یہ بات نہیں مان سکتے کہ وہ زندہ اسی خالی جسم کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور کسی زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے دنیا میں آئیں گے ۔ حیات میشیح کے عقیدہ سے پھر حضرت مسیح کو زندہ آسمان پر ماننے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہنگ ہوتی ہے کیونکہ اگر کسی نبی نے زندہ رہنا ہوتا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہو سکتے تھے۔ - چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہی خیال پیدا ہوا اور حضرت عمر جیسا جلیل القدر انسان ہاتھ میں تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اس کا سر اُڑا دوں گا ۔ تمام صحابہ جو بڑے دلیر اور بہادر تھے کسی نے ان کی تردید نہ کی۔ اس وقت وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے لئے کھڑا کیا اس نے آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور سب کو مخاطب کرکے کہا۔ سنو ! وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (ال عمران : ۱۳۰ کہ محمد نہیں تھے مگر اللہ کے رسول آپ سے پہلے جتنے رسول تھے وہ فوت ہو گئے ۔ اگر آپ بھی فوت ہو گئے تو کیا تم ایٹریوں کے بل پھر جاؤ گے ۔ پھر اس کے بعد کہا۔ لوگو اسنو ! مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَ اللَّهَ حَتَّى لا يَمُوتُ (بخاری کتاب المناقب باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لوكنت متخذا خلیلاً ) کہ جو محمد کی عبادت کرتا ہے وہ دیکھ لے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ سن لے کہ اللہ زندہ ہے۔ حضرت عمر نہ کہتے ہیں کہ جب ابو بکر نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ رسول کریم فوت ہو گئے ہیں۔ اس وقت وہ کانپنے لگے اور گر گئے۔ پھر لکھا ہے کہ صحابہ گلیوں میں روتے پھرتے اور حسان کا یہ شعر پڑھتے کہ كنت الشوَادَ لِنَاظِرِي فَعَسِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ من شَاءَ بعدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ يُحَاذِرُ ر دیوان حسان بن ثابت ما مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ م ) تو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا جب تو نہ رہا تو پھر خواہ کوئی مرے ہیں کچھ پرواہ نہیں۔ یہ وہ محبت