انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 128

انوار العلوم جلد ۵ ۱۳۸ خاتم النبیین کی شان کا اظہار اس نے کبھی نہیں لگایا۔پھر وہ فتنہ ایسا ہو گا جس کی خبر حضرت نوح سے لے کر سارے انبیاء دیتے آئے ہیں۔ایسے فتنہ وشتر کے زمانہ میں ضروری تھا کہ اسلام کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کوئی خاص ہی سامان کرتا۔کیونکہ اس نے خود وعدہ کیا ہے کہ انا نحنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجز (۱۰) کہ ہم نے ہی اس ذکر کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔یہ حفاظت کا لفظ بتاتا ہے کہ اسلام پر مخالفین کی طرف سے بار بار حملے ہوں کیونکہ حفاظت اسی چیز کی کی جاتی ہے جس کے اُٹھا لے جانے یا بگاڑ دینے کا خطرہ ہو۔تو معلوم ہوا کہ قرآن خطرہ میں ہوگا اور خدا اس کی حفاظت کے سامان کرے گا اس وعدہ کے مطابق ضروری تھا کہ اس وقت جب کہ شیطان کا اسلام پر آخری حملہ ہونا تھا اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد ثابت ہو چکا تھا کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے اس لئے اس کے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ ہر مذہب میں پیشگوئی کرادی کہ آخری زمانہ میں ایک نبی آئے گا اور ہر مذہب کو چونکہ اپنے ہی مذہب سے تعلق رکھنے والے کے ساتھ سب سے زیادہ الفت ہوتی ہے۔مثلاً عیسائیوں کو حضرت مسیح سے ، ہندوؤں کو کرشن جی سے، مسلمانوں کو مہدی سے اس لئے ہر ایک مذہب میں اسی مذہب سے تعلق رکھنے والے کے آنے کی پیشگوئی کرادی اور وہ اپنی اپنی جگہ اُمید لگائے بیٹھے رہے کہ ہم میں آئے گا۔یہ تدبیر کر کے خدا نے ایک ہی انسان کو مقرر کر دیا تاکہ جب وہ آئے تو کسی مذہب والے کو اس کے ماننے میں عذر نہ ہو سکے تو سب پر حجت قائم کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ہر مذہب والوں سے آنے والے کا نام الگ الگ رکھا دیا۔مگر دراصل وہ ایک ہی انسان تھا تاکہ جب وہ آئے تو اس کا فیصلہ مانے میں کسی کو عذر نہ ہو۔یہ ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک بات کا تصفیہ کرانے کے لئے چند آدمی پہنچ مقرر کر لیں اور وہ ان کا فیصلہ کر دے۔اسی طرح پارسیوں نے کیا موسیوز رہی جو فیصلہ کرے گا اسے ہم مان لیں گے۔عیسائیوں نے کہا میشیح جو فیصلہ کرے گا وہ ہم قبول کر لیں گے مسلمانوں نے کہا مہدی جو فیصلہ کرے گا وہ ہم تسلیم کرلیں گے۔اس طرح جب سب مذاہب والے تیار ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو بھیج دیا جس میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی تھیں جو ہر ایک مذہب نے آنے والے کے لئے مقرر کی ہوئی تھیں۔اس کے متعلق گو ابتداء میں مخالفت کریں لیکن جب غور کریں گے اور مقررہ علامات کو پورا ہوتا دیکھ لیں گے تو مان لیں گے۔اس انسان کو خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے بھیجا جس نے اسلام کی صداقت ثابت کی اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہوئی۔