انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 120

انوار العلوم جلد ۵ ۱۲۰ تقریر سیالکوٹ تیسری دلیل تیسرا بوت سچے نبی کا خدا تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَبَ بِايْتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ ۔ (الانعام : (۲۲) اس سے زیادہ ظالم کون کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے اور کہے کہ مجھے الہام ہوتا ہے حالانکہ نہ ہوتا ہو۔ یا اللہ کی آیات کی تکذیب کرے ۔ ایسے لوگ ظالم ہوتے ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ ۔ سے اب ہم پوچھتے ہیں جب خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہوتا ہے۔ اور ظالم کبھی : خدا تعالیٰ نصرت نہیں پاتا ۔ تو جب حضرت مرزا صاحب ایسے تھے تو پھر کیا وجہ ہے خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں ملتی رہی ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نصرت ملی اس کو دیکھ کر کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ جھوٹے تھے ورنہ اسے قرآن کو جھوٹا قرار دینا پڑے گا جو کہتا ہے کہ خدا پر جھوٹ بولنے والوں کو کبھی نصرت نہیں ملتی ۔ دیکھوا حضرت مرزا صاحب نے آج سے کئی سال پہلے قادیان میں جہاں کے اکثر لوگ آپ سے نا واقف تھے اور صرف چند لوگ جانتے تھے کہا یأْتِينَ مِنْ كُلِّ نَجِّ عَمِيقٍ تذکره ماه پیش چهارم ) اور يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (تذکرہ ۱۳۸۵ ایڈیشن چہارم ، کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے چاروں طرف سے تیرے پاس اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ رستے گھیس جائیں گے اور چاروں طرف سے خورد و نوش کا سامان آئے گا ۔ اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے بھی بتایا کہ چاروں طرف تیرا نام پھیل جائے گا۔ جب حضرت صاحب نے دعوی کیا بالکل گمنام تھے، کوئی ان کا متبع نہ تھا، آپ کوئی بڑے عالم نہ تھے، کوئی حکومت نہ رکھتے تھے کہ رعب کی وجہ سے لوگ آپ کے ساتھ ہو گئے ۔ پھر یہ بھی نہیں کہ آپ کی مخالفت نہیں ہوئی بلکہ جب آپ نے دعوی کیا تو ہندوستان کے سب علماء آپ کی مخالفت میں کھڑے ہو گئے ۔ امراء نے بھی آپ کے خلاف زور لگایا اور پیروں گدی نشینوں نے بھی مخالفت کی۔ پھر اس وقت کے حالات کو دیکھ کر گورنمنٹ نے بھی بدظنی ظاہر کی کیونکہ حضرت صاحب نے مہدی ہونے کا دعوی کیا اور مہدی کا جو نقشہ مسلمانوں نے کھینچا ہوا تھا اس سے گورنمنٹ کو فتنہ و فساد کا ڈر تھا ۔ ادھ ڈر تھا ۔ ادھر ہندوؤں ! وں اور عیسائیوں نے حضرت مرزا صاحب کی مخالفت شروع کردی ۔ مگر آپ تن تنہا سب کے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے اور کسی کی پرواہ نہ کی اور علی الاعلان کہہ دیا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خزانہ کی حفاظت کے لئے کھڑا ہوں ۔ کون ہے جو ایک پیسہ بھی اس میں سے اُٹھا کر لے