انوارالعلوم (جلد 5) — Page 109
انوار العلوم جلد ۵ ١٠٩ تقریر سیالکوٹ کے لئے شعر م ہے کیوں دیتا ہے کیا مسلمان کے معنی فریبی اور دغا باز اور بد عہد کے ہیں ؟ تو مسلمانوں کی یہ حالت ہے اور اس کے لئے کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔ خود مسلمان شاعروں کے شعر دیکھ لو وہ مسلمانوں کی کیا حالت بیان کرتے ہیں ۔ حالی جو فوت ہو گئے ہیں ان کے دل میں مسلمانوں کا درد تھا ۔ ان کے شعر دیکھ لئے جائیں وہ کیا کہتے ہیں۔ میں نے ایک مصنف کی کتاب پڑھی ہے وہ ہمارے متعلق لکھتا ہے یہ لوگ کہتے ہیں قرآن میں یہ خوبی ہے اور حدیث میں یہ لیکن ہم ان باتوں کو کیا کریں تم یہ دیکھیں گے کہ عملی طور پر اسلام کیسا ہے ۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے۔ چلو اسلامی ممالک میں چلیں اور دیکھیں مسلمان کہلانے والوں کی کیا حالت ہے ۔ یہ اعتراض کو غلط ہے اور اسلام کی صداقت پر اس کی وجہ سے کوئی حرف نہیں آتا ۔ تاہم ایسا ہے کہ ایک مسلمان سن کر شرمندہ ضرور ہو جاتا ، ولایت میں ایک عیسائی ان کتابوں کو پڑھ کر جو اسلام کی تائید میں لکھی گئیں مسلمان ہو گیا اور اس نے ارادہ کیا کہ چلو ہندوستان چل کر ان لوگوں کو دیکھیں جو مسلمان ہیں۔ اس میں کوئی نقص ہوگا کہ وہ بد قسمتی سے ایسے وقت میں ہندوستان کی ایک ریاست میں پہنچا جبکہ محترم کے ایام تھے اور مسلمان کہلانے والے شیر چیتے کی کھالیں بین کر ناچ رہے تھے ۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا جس مذہب کے ماننے والوں کی عملی حالت یہ ہو اُسے کوئی انسان قبول نہیں کر سکتا اور وہ مرتد ہو گیا۔ اس پر میں نے اس رئیس کو خط لکھا ۔ اب اس نے محرم کے متعلق ایسی قیود لگا دی ہیں کہ بہت کم خلاف انسانیت باتیں کی جاتی ہیں۔ تو اس زمانہ میں مسلمانوں کی ایسی حالت ہو گئی ہے کہ جسے دیکھ کر رونا آتا ہے ۔ دنیا کے سارے کے سارے عیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے جاتے ہیں۔ اگر اس وقت میں ان کو بیان کروں تو ہر مؤمن کے جسم کو کپکپی شروع ہو جائے ۔ مگر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہر ایک جانتا ہے ۔ مسلمان کہلانے والے اسلام کے خلاف یہ تو علی کمزوری کی وجہ سے ہوا لیکن مسلمانوں نے اسی پریس نہیں کی بلکہ اسلام کے خلاف و د لیکچر دیئے اور کہا اس وقت اور رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے وقت میں بہت بڑا فرق ہو گیا ہے اس لئے وہ باتیں جو اس زمانہ میں کی گئیں اب نہیں ہو سکتیں ۔ چنانچہ ایک شخص نے تجویز پیش ہے اس لئے وہ جواس زمانہ میں کی گئیں اب نہیںہوسکتیں۔ ایک کی کہ چونکہ پتلون پہن کر سجدہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ جاہل لوگوں کے لئے تھا اس لئے اب اس طرح نماز پڑھنی چاہئے کہ لوگ بینچ پر بیٹھ کر میز پر سر جھکا لیا کریں۔ اسی طرح ہر روز نماز پڑھنے کا