انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 98

انوار العلوم جلد ۵ ۹۸ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں دیکھ کر در دنہیں ہوتا۔اور مصیبت زدہ کو دیکھ کر دکھ نہیں محسوس ہوتا جس شخص کی نظر اپنے ہی دُکھ درد تک محدود ہو۔وہ مومن کہلانے کا مستحق نہیں ہے مسلم کے معنے خدا کی آنکھ ہیں اور خدا کی آنکھ صرف مسلمانوں کے ہی دکھ درد کو نہیں رکھتی بلکہ تمام مخلوق کو دیکھتی ہے۔پھر سلم کے معنے خدا کا ہاتھ ہیں اور خدا کا ہاتھ صرف مسلمانوں کے لئے دراز نہیں ہوتا۔بلکہ ہر ایک انسان کے لئے دراز ہوتا ہے۔پھر سلم کے معنی خدا کا پاؤں ہیں اور خدا کا پاؤں صرف مسلمانوں کی طرف نہیں بڑھتا، بلکہ سکھ ، ہندو، عیسائی سب کی طرف بڑھتا ہے۔پس مسلمان اور مومن وہی کہلا سکتا ہے جیسے ہر ایک انسان کے دُکھ اور مصیبت کے دُور کرنے کی فکر ہو۔لیکن اگر کسی میں خدا تعالے کی تمام مخلوق کے لئے تواضع اور ہمدردی نہیں تو اس کا اسلام ناقص ہے۔تبلیغ کی رفتار تیز کرو پھر میں کہتا ہوں مرد مردوں میں اور عورتیں عورتوں میں تبلیغ دین کریں وقت گزر رہا ہے۔مگر کام جس رفتار سے ہونا چاہئے اس سے نہیں ہو رہا۔بیشک ہماری جماعت کی ترقی ہو رہی ہے لیکن آج ہم جس طاقت اور قوت سے کام کر رہے ہیں۔اس سے اگر زیادہ پیدا کرلیں تو کل بہت زیادہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔پس عورتیں اور مرد پہلے اپنی درستی کریں اور پھر دوسرے لوگوں تک دین کو پہنچائیں۔خصوصاً میں طالب علموں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کی محبت اپنے دل میں پیدا کرو وہ اپنے دلوں میں خاص طور پر دین کی محبت پیدا کریں اور اپنی حالتوں کو بہت زیادہ اچھا بنائیں۔خود خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں گاڑ لیں کیونکہ محبت ہی قدرت کلام اور شان و شوکت اور اثر کو پیدا کرتی ہے۔اس طالب علم خاص طور پر خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔اور ایسی محبت پیدا کریں کہ دنیا کی کوئی چیز اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے۔جب یہ حالت ہو جائیگی تو وہ دیکھیں گے کہ ان کے اندرایسی روشنی اور ایسا نور پیدا ہو جائیگا کہ کسی سے کوئی بات منوانے میں انہیں رکاوٹ پیش نہ آونگی اور کوئی علم ایسا نہ ہو گا جو اسلام کے بطلان کے لئے نکلا ہو اور وہ اسے پاش پاش نہ کر دیں۔مجھے محبت کے متعلق اپنا ایک بچپن کا رویا یاد ہے میری اس وقت کوئی گیارہ بارہ برس کی عمر تھی۔میں نے دیکھا ایک سٹیچو ہے جیسا کہ امرتسر میں ملکہ کا سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے اس کے اوپر ایک بچہ ہے جو آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بلاتا ہے۔اتنے میں آسمان سے کوئی چیز اتری ہے جو نہایت ہی حسین عورت ہے جس کے کپڑوں کے ایسے عجیب و غریب رنگ ہیں جو میں نے کبھی نہیں دیکھے اس