انوارالعلوم (جلد 5) — Page 89
انوار العلوم جلد ۵ ۸۹ جماعت احمد یہ کی ذمہ داریاں نہیں دینا چاہئے اور اس کے خلاف فیصلہ سننے کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے ۔ نہ کہ اس پر اتنا زور دینا چاہئے کہ ضرور اسی طرح ہو اور نہ دوسروں کی حقارت کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ یہی رائے درست ہے اور کسی کی درست نہیں ۔ ضروری نہیں کہ ہرمعاملہ میںانسان کی رائے درست ہو یا ہی نہیں ہوسکا کہ ہرایک محلہ کبھی نہیں سکتا معاملہ میں انسان کی اپنی رائے درست ہو اور انسان تو الگ رہے بعض معاملات کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ مکن میری رائے درست نہ ہو ( نبراس - شرح الشرح العقائد نسفی ۳ مطبوعہ میں تھے ) امطبوعہ میرٹھ ، لیس جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بھی ایسی ہو سکتی ہے تو اور کون ہے جو اپنی رائے میں غلطی نہیں کر سکتا ۔ ہے یہ جو امارت اور خلافت کی اطاعت کرنے خلیفہ یا میرکی اطاعت کیوں ضروری ہے ؟ اور اسی قدر زور دیاگیا ہے اس کے بیٹے پر اس زور ہے اس معنے نہیں ہیں کہ امیر یا خلیفہ کا ہر ایک معاملہ میں فیصلہ صحیح ہوتا ہے کئی دفعہ کسی معاملہ میں وہ غلطی کمر جاتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اسی لئے حکم دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر انتظام قائم نہیں رہ سکتا تو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں بھی غلطی کر سکتا ہوں تو پھر خلیفہ یا امیر کی کیا طاقت ہے کہ کسے میں کبھی کسی امر میں غلطی نہیں کر سکتا ۔ خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے ، لیکن باوجود اس کے اس کی اطاعت کرنی لازمی ہے ورنہ سخت فتنہ پیدا ہو سکتا ہے مثلاً ایک جگہ وفد بھیجنا ہے۔ خلیفہ کہتا ہے کہ بھیجنا ضروری ہے لیکن ایک شخص کے نزدیک ضروری نہیں ہو سکتا ہے کہ فی الواقع ضروری نہ ہو لیکن اگر اس کو اجازت ہو کہ وہ خلیفہ کی رائے نہ مانے تو اس طرح انتظام ٹوٹ جائے گا جس کا نتیجہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ تو انتظام کے قیام اور درستی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی رائے پر زور نہ دیا جائے جہاں کی جماعت کا کوئی امیر مقرر ہو وہ اگر دوسروں کی رائے کو مفید نہیں سمجھتا تو انہیں چاہئے کہ اپنی رائے کو چھوڑ دیں ۔ اسی طرح جہاں انجمن ہو دیاں کے لوگوں کو سیکرٹری کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر ہی اصرار نہیں کرنا چاہئے جہاں تک ہوسکے سیکرٹری یا امیر کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اُسے سمجھانا چاہئے لیکن اگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے تو دوسروں کو اپنی رائے چھوڑ دینی چاہئے۔ کیونکہ رائے کا چھوڑ دیا فتنہ پیدا کرنے کے مقابلہ میں بہت ضروری ہے ۔