انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 80

انوار العلوم جلد ۵ حاضرین سے خطاب ۸۰ صداقت اسلام ست اس کے بعد میں سب احباب سے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم درخوا کرتا ہوں کہ وہ اسلام کی صداقتوں اور سچائیوں پر محبت سے غور کریں ۔ محبت اور پیار سے دوسرے کو تلقین کرنا برا نہیں ۔ برا آپس میں لڑنا اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا ہے ۔ آپ لوگ ٹھنڈے دل سے ہمارے مذہب پر غور کریں ۔ ہم بھی آپ لوگوں کے مذاہب پر اسی طرح غور کرتے ہیں۔ کیا یہ مذہب جو میں نے پیش کیا ہے ایسا نہیں ہے کہ اس پر دنیا کے امن و امان کی بنیاد ہو ؟ اگر اسلام ایسا ہی ہے اور واقع میں ایسا ہی ہے تو میں آپ لوگوں سے اپیل کروں گا کہ آپ اسے قبول کریں تاکہ وہ بعد دور ہو جائے جو ہم میں اور آپ لوگوں میں پایا ر بقیه حاشیه صفحه سابقه ) انجام دی ہے ۔ مرزا صاحب اور مولوی محمد قاسم صاحب نے اس وقت سے کہ سوامی دیانند نے اسلام کے متعلق اپنی دماغی مفلسی کی نوحہ خوانی جا بجا آغاز کی تھی، ان کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔ ان حضرات نے عمر بھر سوامی جی کا قافیہ تنگ رکھا ۔ جب وہ اجمیر میں آگ کے حوالے کر دیئے گئے اس وقت سے اخیر عمر تک برا بر مرزا صاحب آریہ سماج کے چہرہ سے انیسویں صدی کے ہندو ریفارمر کا چڑھایا ہوا ملمع اتارنے میں مصروف رہے۔ اُن کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری نداشت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے نا ممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔ فطری ذہانت مشتق و مہارت اور مسلسل بحث مباحثہ کی عادت نے مرزا صاحب میں ایک شان خاص پیدا کر دی ۔ ا تھی ۔ اپنے مذہب کے علاوہ مذہ مذہب غیر پر اُن کی نظر نہائیں ر نهایت وسیع تھی اور وہ اپنی ان معلومات کا نہایت سلیقہ سے استعمال کر سکتے تھے۔ تبلیغ و تلقین کا یہ ملکہ اُن میں پیدا ہو گیا تھا کہ مخاطب کسی قابلیت یا کسی مشرب و ملت کا ہو اُن کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑ جاتا تھا۔ ہندوستان آج مذاہب کا عجائب خانہ ہے اور جس کثرت سے چھوٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں اس کی نظیر غالباً دنیا میں کسی جگہ سے نہیں مل سکتی ۔ مرزا صاحب کا دعوی تھا کہ میں ان سب کے لئے حکم و عدل ہوں لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں بہت مخصوص قابلیت تھی اور یہ نتیجہ تھی ان کی فطری استعداد کا ذوق مطالعہ اور کثرت مشتق کا۔ آئندہ امید نہیں ہے کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلی خواہشیں محض اس طرح مذاہب کے مطالعہ میں صرف کر دے؟ (بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه ۵۷۱ تا ۵۷۳ مطبوعه را ۱۹ )