انوارالعلوم (جلد 5) — Page 78
بانوار العلوم جلد ۵ جس میں تعلیم کیا کہ مرزا صاحب نے اسلام کی شاندار خدمات کی میں اور انہوں نے دیگر مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی صداقت کو نمایاں کر دیا اور حضرت مرزا صاحب کے مخالف کی آپ کے متعلق گواہی ہے اور بھی کئی اخبارات نے آپ کی خدمات کا اعتراف کیا۔مگر وکیل کا مضمون سب سے زبر دست تھا اس میں لکھا گیا تھا کہ مرزا صاحب کی قلم سحر اور زبان جادو تھی۔اور ان کی دو مٹھیاں بجلی کی بیڑیاں لے اختیار وکیل کے اصل الفاظ یہ ہیں :- وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار اُلجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹیاں تھیں۔وہ شخص جو نہ ہی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جو شور قیامت ہو کے خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا۔۔۔۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے اور مٹانے کے لئے اُسے امتداد زمانہ کے حوالہ کر کے صبر کر لیا جائے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندانِ تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔" میرزا صاحب کی اس رفعت نے اُن کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیالی مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص اُن سے جُدا ہو گیا اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔اُن کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جنرل کا فرض پورا کرتے رہے، ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک کیست اور پامال بنائے رکھا۔آئندہ بھی جاری رہے یا مرزا صاحب کا لٹریچر جو سیجیوں اور آریوں کے مقابلہ پر اُن سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل وہ کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدرہ عظمت آج جبکہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس لئے کہ وہ وقت ہر گز لوح قلب سے نیا منیا نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب و (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)