انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 596

انوار العلوم جلد ۵ ۵۹۶ ہدایات زریں روکا جاتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو دیکھا گیا ہے کہ پھر جو سوار ہونے کے لئے آتا ہے اسے سب سے آگے بڑھ کر وہی روکتا ہے اور کہتا ہے یہاں جگہ نہیں ہے ہمارا دم پہلے ہی گھٹ رہا ہے اسی طرح ہر جگہ ہوتا رہتا ہے۔ایسے موقع پر مبلغ ان کا افسر بن کر بیٹھ جائے اور نرمی و محبت سے کے آنے دیجیئے کوئی حرج نہیں بیچارہ رہ گیا تو نہ معلوم اس کا کتنا نقصان ہو۔اور اگر کہیں جگہ نہ ہو تو کہہ دے میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔یہاں بیٹھ جائے گا۔جب وہ اس بات کے لئے تیارہ ہو جائے گا اور اس قدر اختیار کرے گا تو اس کا لوگوں پر اتنا اثر ہو گا کہ سب اشیار کے لئے تیار ہو جائیں گے اور تھوڑی تھوڑی جگہ نکال کر آنے والے کو بٹھا دیں گے۔اس طرح اسے اپنی جگہ بھی نہیں چھوڑنی پڑے گی اور بات بھی پوری ہو جائے گی۔اس قسم کی باتوں سے مبلغ لوگوں کو ممنون احسان بنا سکتے نہیں ایک مبلغ جن لوگوں کو گاڑی کے اندر لائے گا وہ تو اس کے شکر گزار ہوں گے ہی، دوسرے بھی اس کے اخلاق سے متاثر ہوں گے اور اس کی عزت کرنے لگیں گے۔اور اس طرح انہیں تبلیغ کرنے کا موقع نکل آئے گا۔لیکن اگر اس موقع پر اسی قسم کی بد اخلاقی دکھائی جائے جس طرح کی اور لوگ دکھاتے ہیں تو پھر کوئی بات سننے کے لئے تیار نہ ہوگا۔اور نہ تمہیں خود جرات ہو سکے گی کہ ایسے موقع پر کسی کو تبلیغ کر سکو۔ایک سفر میں ایک شخص گاڑی کے اس کمرہ میں آداخل ہوا جس میں ہمارے آدمی بیٹھے تھے۔اس کے پاس بہت سا اسباب تھا جب وہ اسباب رکھنے لگا تو بعض نے اسے کہا کہ یہ سیکنڈ کلاس ہے۔اس سے اتر جائیے اور کوئی اور جگہ تلاش کیجیئے لیکن وہ خاموشی سے ان کی باتیں سُنتا رہا۔اور جب اسباب رکھ چکا تو سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ نکال کر ان کو دکھلا دیا اس پر وہ سخت نادم ہو کر بیٹھ گئے۔مجھے سخت افسوس تھا کہ ان لوگوں نے اس قسم کی بداخلاقی کیوٹی کھائی۔جب میں نے اس کا جواب سنا تو میرے دل کو بہت خوشی ہوئی۔جس سے اس طرح پیش آتے تھے وہ لوگ تبلیغ کر سکتے تھے اور وہ ان کی باتوں سے متاثر ہو سکتا تھا۔ہرگز نہیں۔تو اشیار کے موقع پر اختیار کر کے لوگوں میں اپنا اثر پیدا کرنا چاہئے تاکہ تبلیغ کے لئے راستہ نکل سکے۔اس قسم کی اور بیسیوں باتیں ہیں جن میں انسان ایشیار سے کام لے سکتا ہے۔اٹھارہویں بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دلائل دو قسم کے ہوتے اٹھارہویں ہدایت ہیں۔ایک عقلی اور دوسرے ذوتی۔عقل تو چونکہ کم وبیش ہر ایک میں ہوتی ہے اس لئے عقلی دلائل کو سر شخص سمجھ سکتا ہے۔لیکن ذوقی دلیل ہوتی تو نیچی اور بہتی ہے مگر چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ مناسبت ذاتی کے بغیر اس کو سمجھنا نا ممکن ہوتا ہے۔اس لئے اس کا مخالف